رسائی کے لنکس

بھارتی سپریم کورٹ نے تین طلاق کو کالعدم قرار دے دیا

  • سہیل انجم

بھارت کی سپریم کورٹ کی عمارت (فائل فوٹو)

اپنے اختلافی نوٹ میں چیف جسٹس نے کہا کہ طلاق ثلاثہ چونکہ مسلم پرسنل لا کا ایک حصہ ہے اس لیے اسے بنیادی حق کی حیثیت حاصل ہے۔

بھارت کی سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی آئینی بینچ نے مسلمانوں میں رائج ایک ساتھ تین طلاقوں کو غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا ہے۔

بینچ نے منگل کو تین، دو کی اکثریت سے سنائے جانے والے فیصلے میں کہا ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں - خواہ وہ بالمشافہ دی جائیں یا ای میل، واٹس ایپ یا خط کے ذریعے دی جائیں - مساوی حقوق کی یقین دہانی کرانے والی ہندوستان کے آئین کی دفعہ 14 کے منافی ہیں۔

بینچ میں شامل چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس عبد النذیر نے اپنی اقلیتی رائے میں کہا ہے کہ طلاقِ ثلاثہ پر چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی جائے اور حکومت اس عمل کو منضبط کرنے کے لیے ایک قانون وضع کرے۔

اپنے اختلافی نوٹ میں چیف جسٹس نے کہا ہے کہ طلاقِ ثلاثہ چونکہ مسلم پرسنل لا کا ایک حصہ ہے اس لیے اسے بنیادی حق کی حیثیت حاصل ہے۔

چیف جسٹس کھیہر اور جسٹس عبدالنذیر نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ باہمی اختلافات کو الگ رکھ کر ایک نیا قانون بنائیں۔

جبکہ بینچ میں شامل تین ججز جسٹس جوزف کورین، جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس یو یو للت نے کہا کہ تین طلاقوں کے چلن کو ختم کر دینا چاہیے۔

تینوں ججز نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چونکہ طلاقِ ثلاثہ قرآن کے نظریے کے خلاف ہے اس لیے اس سے شرعی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی اس رائے سے اتفاق کرنا انتہائی مشکل ہے کہ طلاق ثلاثہ اسلام کا ایک حصہ ہے۔

سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے ایک نشست کی تین طلاقوں کے خلاف دائر متعدد درخواستوں پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا ہے۔

بینچ نے مئی میں تعطیلات کے موقع پر ایک ہفتے تک ان درخواستوں کی سماعت کی تھی اور اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

سماعت کے دوران حکومت نے تین طلاقوں کی یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ یہ خواتین کے حقوق کے منافی ہیں اور شہریوں کے مساوی حقوق کے بھی خلاف ہیں۔ لہٰذا ایک قانون وضع کر کے اس چلن پر پابندی لگا دی جانی چاہیے۔

وزیر اعظم نریدنر مودی نے بھی تین طلاق کی روایت کی مخالفت کی تھی اور اسے مسلم خواتین کے حقوق کے خلاف قرار دیا تھا۔

رواں ماہ بھارت کے یومِ آزادی پر اپنے خطاب میں بھی انھوں نے مسلم خواتین کے حق میں آواز بلند کی تھی۔

'آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ' نے عدالت میں طلاقِ ثلاثہ کی حمایت کی تھی اور اس کے وکلا نے کہا تھا کہ اگر چہ یہ گناہ ہے، لیکن شریعت کا حصہ ہے۔

بورڈ نے یہ کہتے ہوئے اس پر پابندی کی مخالفت کی تھی کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے اور نہ تو عدالت کو اس میں مداخلت کا اختیار ہے اور نہ ہی حکومت کو۔

بعد ازاں مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں میں طلاقِ ثلاثہ کے چلن کو روکنے کے لیے مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔

بورڈ نے یہ فیصلہ بھی کیا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے گا تو اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ جس پر بہت سے سماجی گروہوں اور تین طلاق کے مخالفین نے سوال کیا تھا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کس حیثیت اور طاقت سے سماجی بائیکاٹ کرے گا۔

تین طلاقوں کے خلاف عدالت میں جانے والی تنظیموں اور گروہوں نے اور ان خواتین نے جنھوں نے اپنے شوہروں کے ذریعے دی جانے والی طلاقوں کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے تاریخی قرار دیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس فیصلے پر سرِدست کوئی رد عمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بورڈ نے اپنی مجلس عاملہ کا ایک ہنگامی اجلاس 10 ستمبر کو طلب کیا ہے جس میں مستقبل کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ تاہم بورڈ کے ارکان ذاتی حیثیت میں اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

بورڈ کے ایک رکن ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اپنے آپ میں متضاد ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ ایک طرف کہہ رہی ہے کہ طلاقِ ثلاثہ غیر آئینی ہے اور اس پر چھ ماہ کے لیے پابندی لگا دینی چاہیے اور دوسری طرف وہ اسی فیصلے میں یہ بھی کہہ رہی ہے کہ مسلم پرسنل لا کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور اس پر دستور کی دفعہ 44 نافذ نہیں ہوتی۔

سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ طلاقِ ثلاثہ کی وجہ سے اب مسلم خواتین پر زیادتی نہیں ہوگی۔

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض رہنماؤں نے فیصلے کی روشنی میں ملک میں یکساں سول قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG