رسائی کے لنکس

آسام فسادات میں 26 افراد ہلاک


فسادات میں اب تک 26 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ بلوائیوں کے جتھے سیکڑوں دیہاتوں پر حملہ کرکے وہاں موجود گھروں اور املاک کو نذرِ آتش کرچکے ہیں۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے شمال مشرقی ریاست آسام میں منگل کے روز چار بلوائیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس سے بودو قبائل اور مسلمان آبادکاروں کے درمیان حالیہ فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 26 ہوگئی ہے۔

بھارتی حکومت نے وہاں امن وامان کے قیام کے لیے سیکیورٹی دستے تعینات کیے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بلوائیوں کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ املاک نذر آتش کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

ایک اور واقعہ میں سینکڑوں افراد نے علاقے سے گذرنے والی ایک ایکسپریس ٹرین پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار کئی مسافر زخمی ہوگئے۔

علاقے میں فسادات کا آغاز جمعے کو ہواتھا۔

جب کہ اس سے قبل حکومت نے علاقے میں فوج تعینات کرکے فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کردیا ہے۔

فسادات کا سلسلہ جمعہ کی شب بوڈو نسل کے مقامی قبائل کے اکثریتی علاقے میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں چار نوجوانوں کے قتل کے بعد شروع ہوا تھا۔

علاقے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قبائلیوں کو شبہ تھا کہ ان افراد کی ہلاکت میں مسلمان ملوث تھے جس پر انہوں نے بدلہ لینے کی غرض سے علاقے کی مسلمان آبادیوں کو نشانہ بنایا۔

فسادات میں اب تک کم از کم 22 افرادہلاک ہوچکے ہیں جب کہ جمعے سے اب تک بلوائیوں کے جتھے سیکڑوں دیہاتوں پر حملہ کرکے وہاں موجود گھروں اور املاک کو نذرِ آتش کرچکے ہیں۔

ریاست کے دور افتادہ اضلاع میں ہونے والے ان فسادات کے باعث ہزاروں افراد جان بچانے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں اور عمارات میں قائم کردہ کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

حکام نے علاقے میں فوج کے مزید دستے بھجوا دیے ہیں جب کہ فسادات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلع کوکراجھار میں غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔


متاثرہ اضلاع میں فوج اور پولیس کو بلوائیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ بھاری اسلحے سے لیس فوجی اور نیم فوجی دستے علاقے میں گشت کر رہے ہیں۔

سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے علاوہ نئی دہلی حکومت بوڈو قبائل اور مقامی مسلمانوں کے رہنمائوں کے ساتھ رابطے بھی کر رہی ہے تاکہ علاقے میں کشیدگی پر قابو پایا جاسکے۔

مشتعل افراد کی جانب سے ٹرینوں پر پتھرائو اور لاٹھیاں برسانے کے واقعات کے بعد علاقے میں ٹرینوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے اور کئی اسٹیشنوں پر مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔

ریاست میں مقامی بوڈو قبائل اور دیگر علاقوں سے نقل مکانی کرکے وہاں آبسنے والے مسلمانوں کے درمیان اراضی کی ملکیت سے متعلق تنازعات کے باعث کئی دہائیوں سے کشیدگی چلی آرہی ہے اور حالیہ برسوں میں مقامی قبائل میں مسلمانوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔
XS
SM
MD
LG