رسائی کے لنکس

پاکستان کو 'گرے لسٹ' میں ڈالنے پر بھارت کا خیرمقدم


بھارت کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج (فائل فوٹو)
بھارت کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج (فائل فوٹو)

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے 'ایف اے ٹی ایف' کے معیارات کے نفاذ کی یقین دہانی کرائی تھی۔

بھارت نے 'فنانشل ایکشن ٹاسک فورس' (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو 'گرے لسٹ' میں شامل کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے 'ایف اے ٹی ایف' کے معیارات کے نفاذ اور اس بارے میں عالمی برادری کے تحفظات دور کرنے کی اعلیٰ سطح پر یقین دہانی کرائی تھی۔

بیان کے مطابق پاکستان نے بطور خاص اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دہشت گرد گروہوں اور شخصیات کےخلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کرائی تھی۔

لیکن بیان کے مطابق حافظ سعید جیسے دہشت گردوں اور جماعت الدعوۃ، لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسی تنظیمیں جس آزادی اور کسی ڈر اور خوف کے بغیر پاکستان میں سرگرم ہیں، وہ پاکستان کی جانب سے کرائی جانے والی یقین دہانیوں کے برعکس ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان 'ایف اے ٹی ایف' کے ایکشن پلان پر مقررہ مدت کے اندرعمل کرے گا اور اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی سے متعلق عالمی برداری کے خدشات دور کرنے کے لیے قابلِ بھروسا اقدامات کرے گا۔

پاکستان کی جانب سے تاحال بھارت کے اس بیان پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان نے رواں ہفتے پیرس میں ہونے والے 'ایف اے ٹی ایف' کے اجلاس میں 26 نکات پر مشتمل اپنا ایکشن پلان تنظیم کو پیش کیا تھا جس کے تحت پاکستانی حکام کے بقول دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل کی فراہمی مکمل طور پر روکی جاسکے گی۔

گو کہ 'ایف اے ٹی ایف' نے پاکستان کا پیش کردہ ایکشن پلان منظور کرلیا تھا لیکن پاکستان کو اپنی 'گرے لسٹ' میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایف اے ٹی ایف کا اگلا اجلاس ستمبر میں ہوگا اور خدشہ ہے کہ اگر پاکستان اس سے قبل مؤثر اقداما ت نہ کرسکا تو اسے 'بلیک لسٹ' بھی کیا جاسکتا ہے جس سے پاکستان کو نہ صرف معاشی طور پر نقصانات کا سامنا ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچے گا۔

ایف اے ٹی ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جسے 1989ء میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے منسلک مالی معاونت کی روک تھام اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کو اس سلسلے میں درپیش خطرات سے بچانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

پاکستان اس سے قبل بھی 2012ء سے 2015ء تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں رہ چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG