رسائی کے لنکس

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں خونریز جھڑپ، چھہ مشتبہ عسکریت پسند ہلاک


مارے جانے والے مقامی نوجوانوں کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے
مارے جانے والے مقامی نوجوانوں کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے عہدیداروں نے جمعہ کو بتایا کہ جنوبی ضلع اننت ناگ کے بیجبہاڑہ علاقے میں علی الصبح پیش آنے والی ایک جھڑپ میں کالعدم لشکرِ طیبہ سے وابستہ چھہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپ اس علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد شروع کئے گئے ایک فوجی آپریشن کے درواں ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مارے گئے مشتبہ عسکریت پسندوں میں کالعدم لشکرِ طیبہ کا ایک اعلیٰ کمانڈر آزاد احمد ملک بھی شامل ہے جو سرکردہ صحافی شجاعت بخاری کے مبینہ قتل کے واقعے میں ملوث تھا۔

شجاعت بخاری کو جو انگریزی، اردو اور کشمیری زبانوں میں شائع ہونے والے کئی اخبارات اور جرائد کے مدیرِ اعلیٰ تھے اس سال 14 جون کو سرینگر میں اُن کے دفتر کے باہر نامعلوم حملہ آوروں نے درجنوں گولیاں مارکر ہلاک کیاتھا۔ لشکرِ طیبہ نے اس واقعے میں ملوث ہونے کے پولیس کی طرف سے لگائے گئے الزام کی سختی کے ساتھ تردید کی تھی اور جوابی الزام میں کہا تھا کہ شجاعت بخاری کو بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے قتل کیا۔

جمعہ کو پیش آئی اس جھڑپ میں جو پانچ دوسرے مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے وہ سب بھی مقامی کشمیری تھے۔ آزاد احمد ملک اور ان کے قریبی ساتھی شاہد بشیر ملک کے جنازوں میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقعے پر سوگواروں نے بھارت سے آزادی کے مطالبے کے حق میں جم کر نعرے لگائے۔

اس سے پہلے اننت ناگ کے بعض علاقوں میں مظاہرین اور پتھراؤ کرنے والے ہجوموں اور سرکاری دستوں کے درمیان شدید تصادم ہوئے۔ مسلح دستوں نے پُر تشدد مظاہرین کے خلاف پہلے اشک آور گیس استعمال کی اور پھر گولی چلادی۔ کم سے کم تین افراد زخمی ہوگئے۔ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی علاقے میں کاروباری سرگرمیاں بند کی گئیں۔

سرینگر میں بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے چھہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انکاؤنٹر کی جگہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولی بارود برآمد کیا گیا ہے۔

اُدھر شمال مغربی شہر بارہمولہ میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر لیفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ نے عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے واقعے کو ایک "کامیاب سرجیکل اسٹرائیک" قرار دیدیا۔ انہوں نے کہا۔" یہ فوری طور پر کیا گیا ایک عین مطابق اور کامیاب آپریش تھا جس میں حفاظتی دستوں کا کوئی نقصان نہیں ہوا"۔

عہدیداروں کے مطابق جمعہ کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں سرکاری دستوں نے دو مقامات پر عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر ان کے خلاف آپریشنز شروع کئے جن کی تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں۔

بھارتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سرکاری دستوں نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ریاست میں کئے گئے مختلف آپریشنز کے دوراں تقریبا" پچاس عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG