رسائی کے لنکس

کشمیر ڈائری: غیر جانب دار صحافی الگ تھلگ کیوں محسوس کر رہے ہیں؟ 


سرینگرمیڈیا فیسیلیٹیشن سینٹر
سرینگرمیڈیا فیسیلیٹیشن سینٹر

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے وادی کشمیر میں ’فکسڈ لینڈ لائین‘ فونز کے ذریعے انٹرنیٹ سہولت کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ واضح نہیں آیا کہ ذرائع ابلاغ اور اس سے وابستہ افراد بھی اس زمرے میں آتے ہیں یا نہیں؟ تاہم، ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ براڈ بینڈ سہولت کو اختتام ہفتہ بلا امتیاز بحال کرنے کا امکان ہے۔

سال 1989ء کے بعد کشمیری صحافیوں کے بڑھتے ہوئے مسائل

اگرچہ کشمیری صحافیوں اور اخبارات کو 1989ء کے بعد سے ہی، غیر اعلانیہ سنسرشپ، سرکاری اشتہارات کی روک، قید و بند، تذلیل، مار پیٹ، قاتلانہ حملوں اور ساتھیوں کے قتل ایسے مشکل مراحل سے گزرنا پڑا، جب مقامی نوجوانوں نے بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا اور بھارتی فوج اور دوسرے حفاظتی دستوں نے شورش کو دبانے کے لئے ایک سخت گیر مہم چلائی تھی۔ تاہم گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے کشمیری صحافی ایک انتہائی دشوار اور پُر آزمائش صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ اور، ان کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھانا مشکل بن گیا ہے۔

کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ ناگزیر تھا، حکومتی موقف

اس سال پانچ اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی آئینی نیم خود مختاری کو ختم کرنے اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے براہِ راست بھارتی کنٹرول والے علاقے بنانے کے اقدام کے ساتھ ہی ریاست میں لینڈ لائین اور موبائل فون اور انٹرنیٹ سمیت تمام اقسام کی مواصلاتی سہولیات معطل کر دی گئی تھیں۔ پوری ریاست میں کرفیو یا کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور سینکڑوں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ مواصلاتی سہولیات کو حفظِ ماتقدم کے طور پر معطل کیا گیا تھا، کیونکہ، ان کے بقول، شرپسند عناصر فون اور انٹرنیٹ سہولیات کا غلط استعمال کرکے ریاست میں امن و امان بگاڑنے اور افواہیں پھیلانے کی کوشش کر سکتے تھے۔

اگرچہ یہ پابندیاں وقتاً فوقتاً اٹھائی جا رہی ہیں۔ انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروسز پر ہنوز جاری پابندی کی وجہ سے طالبعملوں، ڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے، ٹریول ایجنسیوں، ٹریڈ اسٹارٹ اپس، آن لائین سروسز اور ان سے وابستہ افراد کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے لئے کام کرنے والے صحافیوں کو شدید دشواریوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھارتی حکومت پر بڑھتا ہوا بین الاقوامی دباؤ

ریاست میں مواصلاتی بلیک آؤٹ کو ختم کرنے کے لیے بھارتی حکومت پر انسانی حقوق اور شہری آزادی کے لیے کام کرنے والے مقامی اور بین الاقوامی اداروں اور بعض غیر ملکی حکومتوں کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں امریکی کانگریس کے چھہ ممبران نے یہ معاملہ واشنگٹن میں تعینات بھارتی سفیر ہرش وردھن شرنگلا کے ساتھ اٹھایا تھا اور ان سے صورتِ حال کے بارے میں صحیح آگہی فراہم کرنے کے لیے کہا تھا۔

میڈیا فیسلیٹیشن سنٹر ..... ایک انار سو بیمار

مواصلاتی بلیک آؤٹ کے نفاذ کے کوئی ایک ہفتہ بعد حکام نے سرینگر کے ایک نجی ہوٹل میں 'میڈیا فیسلیٹیشن سنٹر‘ قائم کر دیا۔ لیکن، اس مرکز پر دو سو سے زائد مقامی اور غیر مقامی صحافیوں کے لئے صرف چار ایسے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر دستیاب تھے جو انٹرنیٹ لائین کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ صحافیوں کو اپنی باری کے انتظار میں قطار میں کھڑا رہنا پڑتا تھا۔ بعد میں انٹرنیٹ سے جڑے کمپیوٹرز کی تعداد میں اضافہ کرکے دس کر دیا گیا اور خواتین صحافیوں کے لئے الگ سے ایک کمپیوٹر مہیا کیاگیا۔ یہ سہولیاتی مرکز اب سرینگر میں جموں و کشمیر محکمہ اطلاعات کے صدر دفتر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں صحافیوں کو انٹرنیٹ کی مقابلتاً بہتر سہولیات دستیاب ہیں۔ لیکن،باوجود اس کے کہ محکمے کے افسران اور عملہ، صحافیوں کی سہولت کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے، معاملہ 'ایک انار سو بیمار' والا ہی ہے۔ اس دوران، وادی میں لینڈ لائین اور پوسٹ پیڈ موبائل فون سروسز بھی بحال کردی گئی ہیں جبکہ جموں خطے میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس پہلے ہی بحال کی جا چکی تھی۔

غیر جانبدار صحافی خود کو الگ تھلگ کیوں محسوس کر رہے ہیں؟

حکومتی عہدیداروں نے گزشتہ چند ماہ سے ایک ایسا طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے جس سے آزاد اور غیر جانبدار صحافی خود کو غیر مؤثر محسوس کر رہے ہیں۔ اکثر غیر جانبدار صحافیوں کا کہنا ہے کہ مختلف سرکاری اداروں اور عہدیداروں کی طرف سے اطلاعات کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہےاور انہیں الگ تھلگ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان میں وہ صحافی بھی شامل ہیں جنہیں محکمہ اطلاعات کی طرف سے ایکریڈیٹیشن ملی ہوئی ہے۔ لیکن نہ تو انہیں اہم سرکاری تقریبات کو کور کرنے کے لیے مدعو کیا جارہا ہے اور نہ ہی حکومتی عہدیدار، ان کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینا پسند کر رہے ہیں۔ ایک صحافی کا کہنا ہے کہ ان کے سوالات کا جواب دینا تو دور کی بات، سرکاری عہدیدار ان سے فون پر بات کرنے یا ملاقات سے بھی کترانے لگےہیں۔

وہ سرکاری عہدیدار ، جو پانچ اگست سے پہلے صحافیوں کے ساتھ آف دی ریکارڈ بات کرلیا کرتے تھے، وہ بھی اب گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں اور صحافیوں کو ٹال دیتے ہیں۔ انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے چند گنے چنے افسران چند مخصوص بھارتی صحوفیوں سے ہی بات کرنے پر تیار ہوتے ہیں،یا انہیں براہ راست ان کے مختلف نیوز شوز میں لیا جاتا ہے۔کئی غیر جانبدار صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اور وقتاً فوقتاً حکومت کی پالیسیوں اور کارروائیوں پر نکتہ چینی کرنے والے اخبارات ان کے لئے 'غیر پسندیدہ' اشخاص اور ادارے بن گئے ہیں۔

'میں تمہاری اسٹوری کے لیے اپنا وقت کیوں ضائع کروں؟'

حال ہی میں ایک بھارتی نیوز میگزین کے سرینگر میں مقیم نمائندے نے جب ایک اعلیٰ پولیس افسر سے ایک اسٹوری کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے رابطہ کیا تو افسر نے اُن سے بات کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ ’’میں آپ کی اسٹوری کے لیے اپنا وقت کیوں ضائع کروں؟‘‘

پولیس افسر کے جواب کے بارے میں بات کرتے ہوئے صحافی کا کہنا ہے کہ اُس نے اپنے 22 سالہ صحافتی کیرئر کے دوران کسی پولیس افسر کو پہلی مرتبہ ایسا کہتے ہوئے سنا ہے۔ سحافی کے بقول، ان کے چند ساتھی صحافیوں کو حالیہ دنوں میں مشکل صورتِ حال سے دوچار ہونا پڑا، کیونکہ انہوں نے حالیہ ہفتوں میں ایسی اسٹوریز لکھیں جن میں کشمیر کی صورتِ حال کے بارے میں کیے جانے والے سرکاری دعوؤں کی نفی کی گئی تھی یا بھارتی حکومت کے چند حالیہ اقدامات پر نکتہ چینی کی گئی تھی۔

بھارت کے سرکاری موقف کے حامی صحافیوں کی حوصلہ افزائی

اس کے برعکس، بعض سرکاری ادارے اور افسران چند مخصوص سوچ کے حامل صحافیوں کی، حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ گزشتہ ماہ یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کے ایک وفد نے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں پائی جانے والی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے سرینگر کا دورہ کیاتھا، لیکن غیر جانبدار صحافیوں کو وفد کے ارکان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

دورے کے اختتام پر، وفد میں شامل چار ارکان نے سرینگر کے ہوائی اڈے پر ایک پریس کانفرنس کی، جس کی کوریج کے لیے ایک دو غیر جانبدار صحافیوں کو چھوڑ کر صرف چند مخصوص افراد کو بلایا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، اس سے پہلے بھارتی حکام نے ان ہی نام نہاد صحافیوں میں سے بعض کو وفد کے سامنے کشمیری سول سوسائٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کے طور پر پیش کیا تھا۔

اس سے قبل 31 اکتوبر کو وفاق کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے پہلے لیفٹننٹ گورنر کے طور پرگریش چندر مرمو نے حلف اٹھایا تو سرینگر کے راج بھون میں منعقدہ اس تقریب سے بھی بیشتر صحافیوں کو دور رکھا گیا۔

عام کشمیری بھی صحافیوں سے خائف

کشمیر میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں عام کشمیری صحافیوں سے بات کرنے میں خوف محسوس کررہے ہیں۔ وائس آف امریکہ کی نمائندہ رتول جوشی نے حال ہی میں سرینگر کے تاریخی لال چوک کے ایک دکاندار سے علاقے میں کی جا نے والی ہڑتال کے بارے میں سوال پوچھنا چاہا تو دکاندار نے کہا: "محترمہ، میں آپ کے سوال کا ضرور جواب دیتا، لیکن مجھے پتہ نہیں کہ دو گھنٹے بعد میں خود کو کسی پولیس تھانے یا جیل میں پاؤں گا یا میرا اس سے بد تر حشر ہوگا"۔

عام لوگوں کی صحافیوں سے بات چیت میں ہچکچاہٹ کی وجہ یہ بھی ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے ایک حصے، خصوصا بھارت کے قومی ٹیلی ویژن چینلز کی کشمیر کے بارے میں کوریج میں بھارتی حکومت کا موقف غالب نظر آرہا ہے ۔ اس وجہ سے بھی عام کشمیری صحافیوں کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG