رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی انتخابات کے کچھ دلچسپ پہلو

update

ووٹراپنی باری کے انتظار میں پولنگ اسٹیشن کے باہر قطاروں میں کھڑے ہیں۔

بھارت کے وزیراعظم نے انتخابی مہم کے دوران 2 روز پہلے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'بھارت میں انتخابی میلہ سجنے جارہا ہے'۔

اس بیان کا دنیا کی آٹھ تہائی آبادی کے مساوی بھارتیوں کی تعداد سے موازنہ کریں، 900 ملین ووٹرز کی لائنیں، آٹھ ہزار سے زائد امیدواروں کی لمبی چوڑی فہرستیں دیکھیں اور ایک کروڑ انتخابی عملے کی تعداد کو مدنظر رکھیں تو واقعی یہ انتخابات اپنے آپ میں کسی گہری دلچسپی اور کسی بڑے 'میلے 'سے کم نہیں۔

آج یعنی 11 اپریل سے 19 مئی تک، 7 مراحل کے دوران 900 ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ یہ تعداد دنیا کے کئی چھوٹے ممالک کی مجموعی آباد ی سے بھی زیادہ ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 900 ملین ووٹرز دنیا کی آبادی کی ایک اعشاریہ تین بلین آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قائم ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان انتخابات کے لئے پورے ملک میں دس لاکھ سے زائد ووٹنگ بوتھس قائم کئے گئے ہیں۔ 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہر بھارتی شہری ووٹ کا اہل ہے۔

سن 2014 کے انتخابات کے بعد سے اب تک 84 ملین نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں نصف سے کچھ کم تعداد خواتین ووٹرز کی ہے جبکہ 39 ہزار خواجہ سرا تیسری جنس کے طور پر شناخت ہوئے ہیں۔

ملک میں تقریباً 2300 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے صرف سات کو قومی اور 59 کو ریاستی سطح پر اہم تصور کیا جاتا ہے۔

گزشتہ انتخابات میں کئی سو جماعتوں نے پارلیمنٹ کی 543 نشستوں کے لئے اپنے آٹھ ہزار سے زائد امیدوار انتخابی دنگل میں اتارے تھے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی 'بھارتیہ جنتا پارٹی' اور ان کی اہم ترین حریف جماعت 'کانگریس ' کے سربراہ راہول گاندھی کے درمیان اصل مقابلہ ہے اور انہی دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت کے جیتنے پر انہی میں سے کوئی ایک ملک کا اگلا وزیراعظم ہو گا تاہم معلق پارلیمنٹ کی صورت میں چھوٹی جماعتوں کا رول سب سے اہم ہو گا۔

نریندر مودی کے اقتدار میں آنے سے پہلے من موہن سنگھ کے دور میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر کانگریس اقتدارمیں آئی تھی۔ اگر اس بار بھی معلق یا ہنگ پارلیمنٹ وجود میں آئی تو حکومت سازی کے عمل میں چھوٹی جماعتوں کی اہمیت بہت بڑھ جائے گی۔

انتخابی مراحل کے مکمل ہونے میں تقریباً چھ ہفتوں کا وقت لگے گا۔ انتخابی عملہ ایک کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ وسیع عملے اور پولنگ اسٹیشنز اور پولنگ بوتھس کی زیادہ تعداد کے باعث کسی بھی ووٹر کو اپنا ووٹ ڈالنے کے لئے دو کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے نہیں کرنا پڑے گا۔

بھارت کی دور افتاد ریاست اروناچل پردیش کے گھنے جنگل میں ایک ایسا پولنگ بوتھ بھی قائم کیا گیا ہے جہاں صرف ایک ووٹر رہتا ہے جبکہ بوتھ پر تعینات الیکشن کمشن کے عملے اور پولیس اہل کاروں کی تعداد 20 ہے۔

بھارت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ ووٹنگ مشین کا پہلا تجربہ 1982 میں کیا گیا تھا۔ اس بار ووٹنگ کے لئے استعمال ہونے والی مشینوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ان مشینوں کو کہیں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے تو کہیں اونٹوں پر رکھ کر پولنگ اسٹیشنز تک پہنچایا گیا ہے۔

ووٹنگ مشینیں بیٹری سے چلتی ہیں اور دیکھنے میں یہ ایک بریف کیس جیسی لگتی ہیں۔ ووٹنگ مشینوں کو ہیک کئے جانے کے الزامات کے باوجود الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہیکنگ سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا۔

تمام 543 نشستوں کے انتخابی نتائج 19 مئی کو جاری ہوں گے۔ 2014 کے انتخابات کے بعد پچھلے 30 سال کے دوران پہلی مرتبہ بی جے پی نے سادہ اکثریت سے حکومت بنائی تھی اور اسے حکومت سازی کے لیے درکار نشستوں سے بھی 10 نشستیں زیادہ ملی تھیں ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG