رسائی کے لنکس

logo-print

وقت آ گیا ہے کہ پاکستان حقائق تسلیم کرے: بھارتی وزارت خارجہ


ترجمان، رویش کمار (فائل)

بھارت نے کہا ہے کہ ’’جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات کی وجہ سے پاکستان گھبرایا ہوا ہے‘‘، اور یہ کہ، ’’پاکستان کو بخوبی اندازہ ہے کہ خطے میں ترقی کے بعد وہ لوگوں کو گمراہ نہیں کر پائے گا‘‘۔

یہ بات بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان، رویش کمار نے جمعے کو روزانہ اخباری بریفنگ کے دوران کہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ’’بھارت نے یہ اقدامات جموں و کشمیر کے بہترین مفاد کو مد نظر رکھ کر کیے ہیں‘‘۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’پاکستان کی جانب سے امن کے معاملے کو کشمیر کے ساتھ منسلک کرنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں‘‘۔

بیرونی امور کی وزارت کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’’وقت آگیا ہے کہ پاکستان حقیقت کو تسلیم کرے اور دیگر ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت بند کرے‘‘۔

’سمجھوتا ایکسپریس‘ کو معطل کرنے کے اقدام پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے، رویش کمار نے کہا کہ ’’یہ اقدام یکطرفہ ہے‘‘ اور ’’بدقسمتی‘‘ پر مبنی ہے۔

ترجمان کا یہ بیان ایسے میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کے خطے کا خصوصی درجہ ختم کرتے ہوئے اسے یونین کا حصہ قرار دیا ہے۔

پاکستان میں قید بھارتی شہری، کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کے بارے میں سوال پر، جن پر جاسوسی کا الزام ہے، بھارتی ترجمان نے کہا کہ ’’ہم پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ’سمجھوتا ایکسپریس‘ کی منسوخی کے یکطرفہ اقدام پر نظر ثانی کرے۔ بقول ترجمان، ’’پاکستان ہمارے دو طرفہ تعلقات کی پریشان کن تصویر کشی کی کوشش کر رہا ہے، جیسے کوئی بڑی چیز ہونے والی ہے، جب کہ ہرگز معاملہ یہ نہیں ہے‘‘۔

جموں و کشمیر کے سلسلے میں بھارتی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام سے متعلق ترجمان نے کہا کہ ’’اس سے جنسی و سماجی عدم مساوات کا خاتمہ ہوگا، جمہوریت پروان چڑھے گی، بہتر عمل داری کا دور دورہ ہوگا اور شفافیت کا عنصر پختہ ہوگا‘‘۔

بقول ترجمان ’’جب جموں و کشمیر میں ترقی ہوگی تو پاکستان دہشت گردی کے لیے دراندازی کا راستہ اختیار نہیں کر سکے گا۔ وہ علیحدگی پسند سرگرمیوں کی حمایت حاصل نہیں کر پائے گا، نہ ہی دہشت گردی کی حمایت ہوگی یا لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے گا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ شق 370 سے متعلق تمام فیصلے بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس حوالے سے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارتی مؤقف سے آگاہ کیا گیا ہے۔

بقول ترجمان، ’’آئین اقتدار اعلیٰ کا درجہ رکھتا ہے، جو مکمل طور پر بھارت کا داخلی معاملہ ہے؛ اور جب بھی پاکستان اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم بھی اسی نوعیت کا فیصلہ کریں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے بر عکس، پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر، بساریہ ابھی تک نئی دہلی واپس نہیں آئے۔

اس سوال پر کہ آیا پاکستان میں بھارت کے خلاف ’انفارمیشن جنگ لڑی جا رہی ہے‘، ترجمان نے کہا کہ ’’پاکستان میں ایک پوری نسل اسی بیانیے کی بنیاد پر پروان چڑھی ہے۔ سرکاری پروپیگنڈا مشین اسی بیانیے کی حمایت کرتی ہے، لیکن متعدد افراد اصل حقائق جانتے ہیں۔ پروپیگنڈا بربادی کی تصویر کشی پر مبنی ہے، جس کی حمایت غیر مصدقہ حقائق اور اعداد و شمار سے کی جاتی ہے‘‘۔

اِن اطلاعات پر کہ پاکستان جموں و کشمیر کےمعاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائے گا، بھارتی ترجمان نے کہ ’’ہم اپنی حکمت عملی یہاں بیان نہیں کریں گے۔ جو بھی اقدام ہم نے کیے ہیں وہ ہمارا داخلی معاملہ ہے‘‘۔

فضائی حدود سے متعلق خبروں پر ترجمان نے کہا یہ بند نہیں کی گئیں، جب کہ کچھ فضائی راستوں کو از سر نو تشکیل دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG