رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: سفیدہ اور بید مشک کے درخت، یقینی اضافی آمدن کے ذرائع


ہریانہ، اُترکھنڈ ا ور اُتر پردیش کی ریاستوں میں 200 کلومیٹر کی قطع اراضی میں ساڑھے سات لاکھ ایکڑ زمیں پر ’ایگرو فوریسٹری‘ کے پروجیکٹ قائم ہیں۔

عام خیال یہ ہے کہ سفیدہ کا بید مشک کے درخت خوصورتی اور سبزہ زار کی علامت ہیں۔ لیکن، چودھری سکھویر سنگھ جیسے کسان کے لیے درخت کا مطلب فوری نقدی ہے۔

ایک تازہ پودے کی جڑوں سے گھاس پھوس کو صاف کرتے ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ، ’ درخت لگانے کا مطلب اضافی آمدن کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم بینک میں پیسے جمع کرا دیں، جب کبھی رقم کی ضرورت ہو، میں اِنہیں کاٹ کر اپنی ضرورت پوری کر لیتا ہوں۔‘

ارو پانڈے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چند ہی برسوں کے اندر اندر ہریانے کی شمالی ریاست میں سکھویر سنگھ کی زمین پر سفیدے کے 500 پودے تناور درخت بن چکے ہوں گے، جس سے وہ 15000 ڈالر کمالیں گے، جنہیں وہ کاٹ کر فرنیچر کے مقامی کارخانوں کو بیچیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اُن سینکڑوں کسانوں میں سے ایک ہیں جنہیں نیروبی میں قائم زراعتی درختوں سے متعلق عالمی مرکز سے رہنمائی اور حمایت فراہم ہوتی ہے۔

یہ تنظیم پھل، عمارتی لکڑی، بایو ڈیزل اور ربڑ پیدا کرنے والے درخت لگانے میں کسانوں کی راہنمائی کرتی ہے، جو سود مند زراعت شمار ہوتی ہے۔

ہریانہ، اُترکھنڈ اور اُترپردیش کی ریاستوں میں 200 کلومیٹر کی قطع اراضی میں ساڑھے سات لاکھ ایکڑ زمیں پر ’ایگرو فوریسٹری‘ کے پروجیکٹ قائم ہیں۔

یہ درخت دھان جیسی فصلوں کے گرد باڑ کا کام دیتے ہیں۔ اِس زرعی منصوبے میں اگلے عشرے کے دوران بھارت کی فصلوں کی زمین کے کونوں پر ڈھائی کروڑ کے قریب درخت لگائے جائیں گے۔

مرکز کے سربراہ، ٹومی سائمنز کا کہنا ہے کہ ’ایگروفوریسٹری‘ اِس جنوبی ایشیائی ملک میں ایک کلیدی اہمیت کی حامل ہے، جہاں کی زمین کا تقریباً 20فی صد حصہ جنگل پر مشتمل ہے۔

کئی ایک ممالک کی طرح، بھارت میں جنگل اور زراعتی زمین کا قابل ِقدر حصہ ترقی کے نام پر ضائع ہوتا جارہا ہے۔

ادھر، گرم موسم میں یہ درخت ٹھنڈی ہوا اور موسم کو معتدل رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں، اور چودھری راجندر سنگھ کی طرح کا کسان ماحول میں خوشگوار تبدیلی کو محسوس کرتے ہیں۔

عالمی ایگرو فوریسٹری سینٹر کا کہنا ہے کہ بھارت کی عمارتی لکڑی کی ضروریات کا 64فی صد جنگلوں سے نہیں بلکہ زراعتی اراضی سے پورا کیا جا رہا ہے۔

یہ تنظیم افریقہ اور جنوبی مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ اس ضمن میں پیش رفت دکھا کر فائدہ اٹھائیں گے۔
XS
SM
MD
LG