رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر کے مقتول صحافی شجاعت بخاری کی پہلی برسی


سری نگر میں مقتول صحافی شجاعت بخاری کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ۔
سری نگر میں مقتول صحافی شجاعت بخاری کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ۔

جمعے کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے صحافیوں نے اپنے ساتھی سید شجاعت بخاری کو اُن کی پہلی برسی پر بھرپور خراج عقیدت ادا کیا۔ پچاس سالہ شجاعت بخاری کو، جو انگریزی روزنامہ 'رائزنگ کشمیر' اور اردو اور کشمیری زبانوں میں شائع ہونے والے تین دوسرے اخبارات کے بانی اور مدیر تھے، گزشتہ سال آج ہی کے دن مسلح افراد نے سری نگر میں اُن کے دفتر کے باہر قتل کر دیا تھا۔

پولیس نے قتل کا الزام فوری طور پر ریاست میں سرگرم عسکریت پسندوں پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ شجاعت بخاری کے قتل کی سازش کالعدم عسکری تنظیم لشکرِ طیبہ نے پاکستان میں تیار کی تھی اور اس پر عمل درآمد بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم اس کے تین ارکان نے سری نگر کے میڈیا ہب مشتاق پریس اینکلیو میں 14 جون 2018 کی شام کو عین اُس وقت کیا، جب شجاعت بخاری گھر جانے کے لیے اپنی کار میں سوار ہو رہے تھے۔ مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے اُن کے دو پولیس محافظ بھی مارے گئے تھے۔

پولیس نے واقع کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ آفیسر ڈپٹی انسپکٹر جنرل وی کے وردھی کی قیات میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم بھی تشکیل دی تھی۔ لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود وہ ملزموں کے خلاف عدالت میں فرد جرم پیش کر سکی ہے اور نہ ہی یہ بتا پائی ہے کہ آیا کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے یا نہیں۔

اس بارے میں جب پولیس حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کچھ بتانے سے انکار کر دیا-

مقتول کشمیری صحافی شجاعت بخاری
مقتول کشمیری صحافی شجاعت بخاری

تاہم ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ شجاعت بخاری اور ان کے محافظوں پر لشکرِ طیبہ سے وابستہ جن تین عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی تھی، ان میں سے دو حفاظتی دستوں کے ساتھ الگ الگ مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں۔

لشکرِ طیبہ نے شجاعت بخاری کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے یہ جوابی الزام لگایا تھا کہ انہیں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے راستے سے ہٹایا۔

شجاعت بخاری بھارتی زیر انتظام کشمیر میں تین دہائیوں سے جاری شورش کے دوران قتل یا اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے مارے جانے والے 18ویں صحافی تھے۔ ان کے قتل نے ریاست بالخصوص وادئ کشمیر کے صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے مختلف شعبوں سے وابستہ دوسرے افراد میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑائی۔

کشمیری صحافی جو انتہائی مشکل صورتِ حال میں کام کر رہے ہیں مسلسل خدشات میں مبتلا ہیں اور برملا طور پر فکر مندی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

سرکردہ صحافی اور کشمیر لائف اخبار کے مدیر مسعود حسین نے کہا "کشمیر کے حالات انتہائی مخدوش ہیں۔ گزشتہ 30 برس کے دوران کئی صحافی مارے گئے۔ لیکن شجاعت بخاری کے قتل نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ میں نے 40 سال پر محیط اپنے کیرئر میں پہلے اپنے آپ کو اتنا غیر محفوظ کبھی نہیں سمجھا، جتنا اس اندوہناک واقعے کے بعد سمجھ رہا ہوں۔ ہم سب ڈرے ہوئے ہیں۔"

جمعے کو شجاعت بخاری کی یاد میں کئی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اس طرح کی ایک تقریب میں، جو سرینگر کے ٹیگور ہال میں منعقد ہوئ، اُن کی اور اُن کی اہلیہ ڈاکٹر تہمینہ بخاری کی لکھی ہوئی کتاب ' کشمیرز تِھن ریڈ لائین' کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔

اس تقریب میں بھارت کے مقتدر صحافی سدارتھ وردرنجن اور کالم نگار اور صحافی سعید نقوی خاص طور پر شریک ہوئے۔ انہوں نے جمہوری نظام کے تسلسل میں میڈیا کے کردار کو کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں آزادئ ابلاغ کی ضرورت کو آئینی ضمانتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے اور اسے کمزور کرنے کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

شجاعت بخاری کے آبائی قصبے سری نگر سے 39 کلو میٹر شمال مغرب میں واقع کریری میں ان کی برسی کے موقع پر عام ہڑتال کی گئی جب کہ اُن کے مزار پر فاتحہ پڑھنے کا سلسلہ دن بھر جاری رہا ۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG