رسائی کے لنکس

جموں میں بھارتی فوجی مرکز پر عسکریت پسندوں کے حملے میں دو فوجی ہلاک


فائل فوٹو

یوسف جمیل

مُشتبہ عسکریت پسندوں نے سنیچر کو علی الصباح نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں واقع ایک اہم فوجی ٹھکانے پر اچانک حملہ کرکے ایک صوبیدار کو ہلاک اور ایک کرنل سمیت پانچ فوجیوں کو زخمی کردیا۔ ہلاک ہونے والے صوبیدار کی بیٹی بھی حملے کے دوران زخمی ہوگئی۔ ایک اور اطلاع میں کہا گیا ہے کہ دو بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے اس اطلاع کی تصدیق کی اور نہ تردید۔

حملہ آوروں نے مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چار بجے جموں کے سنجوان علاقے میں بھارتی فوج کی 36 بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بول کر عقبی راستے سے اندر گھسنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ عہدیداروں کے مطابق وہ خود کار بندوقوں سے گولیاں چلاتے اور دستی بم پھینکتے ہوئے ایک ایسی چار منزلہ عمارت میں داخل ہوگئے جہاں جونیئر کمشنڈ افسراں یا صوبیداروں کے لئے رہائشی سہولیات کا انتظام ہے اور ان میں سے کئی وہاں اپنے کنبوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

بھارتی فوج ، نیم فوجی دستوں اور مقامی پولیس کے شورش مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی)نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کے خلاف کارروائی شروع کردی ۔ لیکن انہیں اس میں فوری کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ۔ دوپہر کو بھارتی فضائیہ کے پیرا کمانڈوز کو ادھمپور سے جہاں بھارتی فوج کی شمالی کمان کے صدر دفاتر واقع ہیں اور بھارتی ریاست ہریانہ کے سرسوا علاقے سے ہوائی جہازوں کے ذریعے جموں لایا گیا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ یہ کمانڈوز فوجی ٹھکانے کے اندر موجود عسکریت پسنوں کے خاتمے کے لیے بھرپور حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایک عہدیدار نے بتایا ۔" چھاپہ مار کارروائی اب کسی بھی وقت کی جاسکتی ہے"۔

بھارتی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل دیوندر آنند نے سنیچر کی رات نامہ نگاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حملہ کرنے والے تین عسکریت پسندوں میں سے دو کو ہلاک کیا گیا ہے اور اُن کے ساتھی کا کام تمام کرنے کے لئے آپریشن"انتہائی احتیاط اور تحمل" کے ساتھ جاری ہے تاکہ فوجی ٹھکانے کے رہائشی کوارٹرس میں موجودنہتے فوجیوںاور اُن کے افرادِ خانہ کو کوئی گزند نہ پہنچے۔

بعد ازاں عہدے داروں نے بتایا کہ تیسرے عسکریت پسند کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مارے گئے فوجیوں کی شناخت جونیئر کمشنڈ آفیسر مدن لال چوہدری اور نان کمشنڈ آفیسر محمد اشرف میر کے طور پر کی اور کہا ایک فوجی میجر سمیت چھہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔ ان میں میجراویجیت سنگھ بھی شامل ہے۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں اور وہ اے کے 56 بندوقوں اور دستے بموں سے لیس تھے۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے ریاستی اسمبلی میں جس کا بجٹ اجلاس جموں میں جاری ہے پارلیمانی امور کے وزیر نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ حملہ فدائین یا خود کش حملہ آوروں نے کیا ہے جن کی صحیح تعداد معلوم نہیں۔

پارلیمانی امور کے وزیر عبد الرحمٰن ویری نے ایوان کو آگاہ کیا کہ جموں پولیس کنٹرول روم کو صبح چار بجکر پچپن منٹ پر ملی فون کال میں حملہ آوروں کی تعداد چار تا پانچ بتائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دو صوبیدار ہلاک ہوگئے جن کی شناخت انہوں نے مدن لال چوہدری اور محمد اشرف میر کے طور پر کی اور کہا کہ زخمی ہونے والوں میں کرنل روہت سولنکی بھی شامل ہے۔ لیکن فوج نے کہا ہے کہ صرف ایک صوبیدار مارا گیا ہے۔

حملے کے پیشِ نظر علاقے میں تمام تعلیمی ادارے بند کئے گئے ہیں اور پورے جموں میں ریڑ الرٹ جاری کیا گیاہے۔

ایوان میں اُس وقت ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب حکمران اتحاد میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبروں نے اس واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے 'پاکستان مردہ باد' کا نعرہ لگایا اور اس کا جواب حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس کے ممبر اور سابق اسپیکر محمد اکبر لون نے 'پاکستان زندہ باد' کہہ کر دیا۔

نیشنل کانفرنس کی قیادت نے فوری طور پر محمد اکبر لون کی اس حرکت سے لاتعلقی ظاہر کی اور کہا کہ نیشنل کانفرنس سیکیولرازم میں پُختہ یقین رکھتی ہے اور اس نے محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو رد کرتے ہوئے 1947 میں بھارت کے ساتھ ریاست کے الحاق کی حمایت کی تھی۔

بعد میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ فاروق عبد اللہ نے ایک اخباری انٹرویو کے دوراں کہا ان کے بقول اگر پاکستان نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں یونہی دہشت گرد حملے کرواتا رہے گا تو بھارت کے لئے اس کے خلاف جنگ چھیڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا۔ "کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب جنگجو بھارت پر حملہ نہیں کرتے ہیں۔ سب جنگجوؤں کا تعلق پاکستان ہے سے۔ اگر پاکستان بھارت کے ساتھ امن سے رہنا چاہتاہے تو اسے جنگ جوئی کے راستے کو ترک کرنا ہوگا ورنہ بھار ت کے سامنے پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا"۔

انہوں نے مزید کہا۔ "اگرچہ جنگ دونوں ملکوں کی تباہی کا موجب بنے گی مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا راستہ چھوڑ کر ڈائیلاگ شروع کرنا ہوگا۔

اُن کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے حکمران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے کہا ہے۔ "جنگ سے ہماری ریاست کے لوگوں کے لئے خوفناک نتائج برآمد ہونگے ۔ اس کا ثبوت حد بندی لائین پر ہوئی حالیہ جھڑپوں کے نتائج سے ملا ہے۔ ہم جنگی جنون کی وکالت کو رد کرتے ہیں اور مضبوطی کے ساتھ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ سلسلہ جنبانی تمام آپسی معاملات کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے"-

تا حال نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم کسی بھی عسکری تنظیم نے حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے – تاہم عہدیداروں نے بتایاکہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم جیشِ محمد سے ہے۔

اس سے پہلے بھارتی عہدیداروں نے بتایا تھا کہ انہیں خفیہ ذرائع سے یہ اطلاع ملی ہے کہ جیشِ محمد کشمیری باغی محمد افضل گورو کی برسی پر کوئی بڑی کارروائی کرنے والی ہے۔ چنانچہ پوری وادئ کشمیر میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جیشِ محمد سمیت کئی عسکری تنظیمیں فعال ہیں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ حملہ جموں میں ہوگا ۔

افضل گورو کو ایک بھارتی عدالت کی طرف سے نئی دہلی میں پارلیمان پر سولہ برس پہلے ہوئے دہشت گرد حملے میں مجرم قرار دئے جانے کے بعد 9 فروری 2013 کو دِلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ جمعہ کو اُن کی پانچویں برسی پر وادئ کشمیر میں کی گئی ایک عام ہڑتال اور گرمائی دارالحکومت سرینگر اور شمال مغربی شہر سوپور میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کئے جانے کے دوران پیش آئی جھڑپوں میں کم سے کم دو افراد شدید طور پر زخمی ہوئے تھے-

صوبائی وزیرِ اعلیٰ نے فوجی ٹھکانے پر ہوئے حملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا –"آج سنجوان میں ہوئے دہشت گرد حملے سے میں انتہائی پریشان ہوں۔ میرا دل زخمی ہونے والوں اور ان کے خاندانوں کے لئے بے چین ہے اور میری ہمدردیاں اُن کے ساتھ ہے"۔

بھارتی وزیرِ داخلہ راجناتھ سنگھ نے ریاست کے پولیس سربراہ شیش پال وید کو فون کرکے حملے کے بارے میں تفصیلات معلوم کیں۔ وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے نئی دہلی میں بتایا کہ وزیرِ داخلہ صورت حال کی قریب سے نگرانی کررہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG