رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیری رہنماؤں کی وادی کی صورت حال پر وزیر اعظم مودی سے ملاقات


بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی مزید 100 کمپنیاں تعینات کر دی ہیں جس سے علاقے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کے ایک وفد نے وزیر اعظم نریندر مودی سے نئی دہلی میں ملاقات کی اور انہیں وادی کی صورت حال سے آگاہ کیا۔ وفد میں ایک اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ حسنین مسعودی بھی شامل تھے۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم سے یہ اپیل بھی کی کہ اسمبلی انتخابات رواں سال کے آخر تک کرا لیے جائیں۔ عوام کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے ہم اسے تسلیم کریں گے۔

انہوں نے نئی دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ کشمیر کے حالات بہت مشکل سے قابو میں آتے ہیں اور بہت آسانی سے ان کو بگاڑا جاتا ہے۔

ہم نے ان سے درخواست کی کہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے، سیاسی یا غیر سیاسی، جس سے حالات دوبارہ خراب ہو جائیں۔ وزیر اعظم نے بھی اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔

دفعہ 370 اور 35 A کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے حالات خراب ہوں تو اس میں یہ چیزیں بھی شامل ہیں۔ ان دفعات پر بھی حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

یہ ملاقات وادی میں نیم مسلح دستوں کی اضافی 100 کمپنیوں کی تعیناتی کے تناظر میں ہوئی۔ اس تعیناتی سے وادی میں یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ 15 اگست کے بعد دفعہ 370 کے تعلق سے کوئی بڑا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ تین دنوں میں مرکزی حکومت کے مبینہ متعدد احکامات کی وجہ سے بھی قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور عوام میں اضطراب ہے۔

تاہم، گورنر ستیہ پال ملک نے مبینہ احکامات کی بنیاد پر پیدا ہونے والے اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے سری نگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن احکامات کی بات کی جا رہی ہے ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ ان افواہوں پر دھیان نہ دیا جائے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک اور معمول کے مطابق ہے۔

نیم مسلح دستوں کی تعیناتی کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ پلوامہ جیسے مزید حملوں کی خفیہ اطلاعات کی وجہ سے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG