رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں قانونِ اقامت کے تحت شہریت دینے کا سلسلہ جاری


سری نگر

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں نئے ڈومیسائل لا کے تحت حالیہ ہفتوں میں ہزاروں افراد کو شہریت کی سندیں جاری کی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد غیر مقامی افراد کی ہے۔

ذرائع کے مطابق، کئی دہائیاں قبل سابقہ مغربی پاکستان سے ہجرت کرکے جموں کے مختلف سرحدی علاقوں میں سکونت اختیار کرنے والے ہزاروں ہندو پناہ گزینوں کو بھی مستقل رہائشی ہونے کے سرٹیفیکیٹ جاری کئے جا رہے ہیں۔

بھارتی حکومت کی طرف سے گزشتہ سال اگست میں اپنے زیرِانتظام کشمیر کی آئینی خود مختاری کو ختم کرکے ریاست کو براہِ راست وفاق کے دو کنٹرول والے علاقوں میں تقسیم کرنے کے آٹھ ماہ بعد، یعنی اس سال اپریل میں حکومت نے متنازع ریاست کے اُس حصے کے لیے، جو اب یونین ٹریٹری آف جموں اینڈ کشمیر کہلاتا ہے، ایک نیا قانونِ اقامت تشکیل دیا گیا تھا۔

جموں میں حکومتی ذرائع نے بتایا کہ شہریت کی سند حاصل کرنے والوں میں بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ انتظامی عہدیدار، نوین کمار چوہدری بھی شامل ہیں، جنہیں یہ دستاویز مقامی تحصیلدار نے اس بنا پر جاری کیے کہ انہوں نے انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس (آئی اے ایس) افسر کی حیثیت سے علاقے میں دس سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیں، جو انہیں نئے قانون اقامت کے قاعدہ 5 کے تحت جموں و کشمیر کی شہریت کا اہل بناتا ہے۔

نئے قانون اقامت نے سابقہ ریاست میں 1927 سے لاگو 'سٹیٹ سبجکٹ لا' کی جگہ لے لی ہے، جس کے تحت صرف اس کے پشتنی یا حقیقی باشندے ہی ریاست میں غیر منقولہ جائیداد خرید اور بیچ سکتے تھے اور سرکاری ملازمتیں حاصل کرسکتے تھے۔

اس قانون کے تحت ریاست کے مستقل باشندوں کو ایک خصوصی دستاویز جاری کی جاتی تھی جو 'اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفیکیٹ' کہلاتی تھی۔ متعلقہ حکام نے کچھ عرصہ پہلے اس طرح کی دستاویز جاری کرنا بند کردیا تھا۔ تاہم، سٹیٹ سبجیکٹ قانون پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں اب تک نافذالعمل ہے۔

مقامی سیاسی جماعتوں اور بعض مبصرین اور ناقدین کی یہ رائے ہے کہ نئے ڈومیسائل لا کے تحت غیر مقامی افراد کو شہریت کی سندیں جاری کرنا بھارتی حکومت کے اُس منصوبے پر عمل درآمد کی طرف پہلا قدم ہے جس کا مقصد جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو تبدیل کرنا ہے۔

نامور قانون دان، پرویز امروز نے کہا ہے کہ ''یہ ایک تشویشناک امر ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''لوگوں میں پائے جانے والے بدترین خدشات صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت جموں کشمیر میں جو ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا چاہتی ہے، کیونکہ غالباً وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس سے کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا''۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین ہند کی دفعات 370 اور 35اے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرنا اور پھر ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے براہ راست وفاق کے کنٹرول والے علاقے بنانے کا خود بھارتی حکومتوں کی طرف سے ماضی میں کرائی گئی یقین دہانیوں اور ملکی قوانین سے انحراف تو تھا ہی، اب نئے قانون اقامت کے تحت غیر مقامی افراد کو جموں و کشمیر میں بسانا، بین الاقوامی قوانین بالخصوص جنیوا کنونشن کی متعلقہ دفعات کی خلاف ورزی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG