رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاکتوں میں اضافہ، کشیدگی برقرار


امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ تمام فریق مل کر اس معاملے کا پرامن حل تلاش کریں اور اُن کا ملک اس عمل کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی۔

اُدھر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس ’اے پی‘ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔

امریکہ نے بھی حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کا پرامن حل تلاش کیا جانا چاہیئے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے پیر کو روزانہ کی نیوز بریفنگ میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ مظاہرین اور بھارتی فورسز کے درمیان کشمیر میں جھڑپوں سے متعلق خبروں سے آگاہ ہیں اور تشدد کے ان واقعات پر اُنھیں تشویش ہے۔

جان کربی نے کہا کہ تمام فریق مل کر اس معاملے کا پرامن حل تلاش کریں اور اُن کا ملک اس عمل کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاملہ پر بھارتی حکومت ہی مزید کچھ کہہ سکتی ہے اور اُسی سے رابطہ کیا جانا چاہیئے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں گزشتہ جمعہ کو ایک مقامی علیحدگی پسند کمانڈر برہان الدین وانی بھارتی فورسز سے جھڑپ میں مارا گیا تھا، جس کے بعد سے کشمیر کے مختلف علاقوں میں مظاہرے شروع ہو گئے۔

گزشتہ ہفتہ کے روز سے لے کر پیر تک کرفیو کے نفاذ کے باوجود بھارتی کشمیر میں مشتعل نوجوانوں کے مظاہرے جاری رہے۔

مظاہرین اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 28 افراد ہلاک جب کہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

زخمیوں میں ایک بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے جن پر مظاہرین کی طرف سے پتھراؤ کیا گیا۔

بھارتی فورسز سے جھڑپ میں مارے جانے والے 22 سالہ علیحدگی پسند کمانڈر برہان الدین ربانی کا تعلق کشمیر کے ایک بڑے شدت پسند گروپ حزب المجاہدین سے تھا۔

برہان الدین ربانی نے اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹیس کو استعمال کیا، جس سے اُنھیں خاصی شہرت ملی۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے پیر کو اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ طلب کر کے اُنھیں بھارتی کشمیر میں حالیہ ہلاکتوں پر اپنے ملک ’’شدید تشویش‘‘ سے آگاہ کیا۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ ان ہلاکتوں میں ملوث افراد کے خلاف شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے تعاون سے رائے شماری کرائے تاکہ کشمیر کے لوگ یہ فیصلہ کر سکیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے کشمیر میں رائے شماری سے متعلق پاکستان کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے کشمیر کے موجودہ صورت حال سے متعلق پاکستان کے بیانات دیکھے ہیں ۔۔۔۔ ہم پاکستان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔‘‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ایک متنازع علاقہ رہا ہے ۔ کشمیر کا ایک حصہ بھارت جب کہ ایک پاکستان کے زیر انتظام ہے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان پر یہ الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی تحریک کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔

پاکستان ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے یہ کہتا رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کے موقف کی صرف سیاسی اور سفارتی مدد کرتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب معاملے میں کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان طے مذاکرات کا نکتہ بھی ہے۔ لیکن اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان مذاکرات معطل ہیں جس سے دوطرفہ معاملات پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

XS
SM
MD
LG