رسائی کے لنکس

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے اسکولوں میں 'سرجیکل اسٹرائیک' ڈے منانے کی ہدایت


بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی گورنر انتظامیہ نے ریاست کے محکمہ تعلیم کے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام پبلک اسکولوں میں بھارتی فوج کی طرف سے پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میں مبینہ طور پر کی گئی 'سرجیکل اسٹرائیکس' کی دوسری برسی کے موقعے پر خاص تقریبات کا اہتمام کرائیں۔

چنانچہ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری نے محکمے کے مختلف شعبوں کے سربراہوں کے نام جاری کئے گئے ایک سرکلر میں ان سے کہا ہے کہ وہ سنیچر 29 ستمبر کو تمام اسکولوں میں 'سرجیکل اسٹرائکس' دن منانے کو یقینی بنائیں۔

سرکلر کے مطابق بھارت کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ اس دن کی مناسبت سے خصوصی تقریبات بڑے پیمانے پر منعقد کی جائیں۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اطلاع کے پیشِ نظر داخلی محکمے کے پرنسپل سیکریٹری نے ہدایت جاری کی ہے کہ 'سرجیکل اسٹرائیکس' کی سالگرہ کے موقعے پر ریاست کے طول و عرض میں مختلف سطحوں پر 28 ستمبر سے تین دن تک مناسب سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے۔

محکمہٴ تعلیم کے افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ تقریبات کا تصویری ثبوت یکم اکتوبر تک پیش کریں۔

محکمہٴ تعلیم نے جن ممکنہ سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے ان میں ان اسکولوں میں جہاں نیشنل کیڈٹ کور کے یونٹ موجود ہیں خصوصی پریڈوں کا اہتمام کرکے ان پر سابق تجربہ کار فوجیوں کو ترغیبی تقاریر کرنے کے لئے مدعو کرنا اور ان میں اور تمام دوسرے اسکولوں میں طالبعلموں کی طرف سے قریبی فوجی یونٹس کو مبارکبادی اور حوصلہ افزائی کے خطوط اور کارڈ بھیجنا شامل ہیں۔ ہر اسکول کی انتظامیہ پر اس کے طالبعلموں کو سادہ کارڈ فراہم کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئر لیڈر اور ریاست کے سابق نائب وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے اسکولوں میں 'سرجیکل سٹرائیکس ڈے' منانے کے لئے جاری کردہ حکم نامے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ"پورا ملک سرجیکل اسٹرائیکس ڈے منارہا ہے۔ پاکستان تین تین جنگیں ہار چکا ہے۔ وہ دَرپردہ جنگ کے ذریعے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتا۔ وہ تشدد اور دہشت گردی کو ایک آلے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ لیکن یہ اُس کے لئے اُلٹی پڑنے والی کیل ثابت ہوگی اور یہ طے ہے کہ اگر پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تو خود اُس کے ٹکڑے ہوں گے۔ ہماری فوج نے دو سال پہلے جو کچھ کیا تھا وہ اُس کی بہادری کا بّین ثبوت ہے۔ اُسے یاد کرنا بچے بچے کے لئے ضروری ہے"۔

ڈاکٹر نرمل سنگھ ریاستی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر ہیں۔ ایوان کے ایک آزاد امیدوار اور علاقائی عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے اسکولوں میں 'سرجیکل اسٹرائیکس ڈے' منانے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو ریاست میں جاری تشدد کی وجہ سے بے پناہ مصائب کا سامنا ہے اور جس چیز کو وہ بھولنا چاہتے ہیں بھارتی حکومت انہیں وہی یاد دلانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "سرکلر جاری کرنا قابلِ افسوس ہے۔ اس ریاست نے 70 برس اور خاص طور پر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مار دھاڑ، قتل و غارت گری اور لاشیں دیکھی ہیں۔ گھر اجڑتے دیکھا ہے۔ یہاں کے بچے پہلے ہی صدمے سے دوچار ہیں، نفصیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ انہیں اور ہم سب کو امن کی ضرورت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دِلّی سرکار چاہتی ہے کہ ہم امن کی بحالی کی خواہش کرنے کی بجائے تشدد سے جڑے واقعات کی یاد میں جشن منائیں۔ یہ ناقابلِ قبول ہے"۔

بھارت میں جمعے کو اس کی فوج کی جانب سے پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں دہشت گردی کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کی گئی مبنیہ 'سرجیکل اسٹرائکس' کی سالگرہ پر کئی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ان میں راجستھان کے تاریخی شہر جودھ پور میں ایک تصویری نمائش کا انعقاد بھی شامل ہے، جس کا افتتاح وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کیا۔

لیکن بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں چھپی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے 'سرجیکل اسٹرائکس' کی دوسری سالگرہ کو ملک میں آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کے پس منظر میں ملک بھر میں تین دن تک بڑے پیمانے پر منانے کے فیصلے پر دفاعی اداروں سے وابستہ افراد نے ناک بھوں چڑھائی ہے۔

اخبار کے مطابق، کئی فوجی افسروں نے 'سرجیکل اسٹرائیکس' کو سیاست سے جوڑنے کی ان مسلسل کوششوں پر بے کلی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ خفیہ فوجی آپریشنز کو سیاسی لڑائیوں میں سبقت لے جانے کے لئے غیر ضروری طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

پاکستان بھارتی فوج کی جانب سے حد بندی لائین پار کرکے اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں 'سرجیکل اسٹرائیکس' کے دعوے کو رد کر چکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 'سرجیکل اسٹرائیکس' کے نتیجے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت ہندوستان کا پروپیگنڈہ ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت بار بار سرجیکل اسٹرائیکس کا نعرہ اپنے شہریوں کو خوش کرنے کے لیے لگارہا ہے۔

اس دوران جمعہ کو بھارتی زیرِ انتظام وادی کشمیر اور ریاست کے جموں خطے کی چناب وادی کے کئی علاقوں میں ایک عام ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال جس کے لئے اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے ایک اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے کی تھی گزشتہ چند روز کے دوراں شورش زدہ ریاست کے محتلف علاقوں میں سرکاری دستوں کے ہاتھوں شہریوں اور عسکریت پسندوں کی ہلاکت پر سوگ منانا اور احتجاج کرنا تھا۔

ہڑتال کے دوران سرینگر اور وادی کشمیر کے بعض علاقوں میں مظاہرے کئے گئے اور چند ایک مقامات پر مشتعل ہجوموں اور سرکاری دستوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG