رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں احتجاج کے دوران پتھراؤ سے ایک سیاح ہلاک


سری نگر میں پولیس کی مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ اور نوجوانوں کا پتھراؤ۔ 7 مئی 2018

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ چنئی (مدراس) کا یہ باشندہ اپنے کنبے کے ساتھ کشمیر کی سیاحت پر آیا ہوا تھا اور سری نگر سے گلمرگ جا رہا تھا کہ راستے میں ان کی گاڑی پتھراؤ کی زد میں آ گئی۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیر کو بھارتی حفاظتی دستوں کی کارروائیوں کے دوران تازہ ہلاکتوں کے خلاف عام ہڑتال کی گئی جبکہ ریاست کے گرما ئی صدر مقام سری نگر کے حساس علاقوں میں مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کرفیو نافذ کیا۔

وادئ کشمیر میں، جہاں ہفتے اور اتوار کو حفاظتی دستوں کی طرف سے مظاہرین اور پتھراؤ کرنے والے گروہوں پر فائرنگ اور چھرے والی بندوقوں کے استعمال کے نتیجے میں چھ شہری ہلاک اور 125 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے، لوگوں میں شديد غم و غصہ ہے۔

ان ہلاکتوں کے علاوہ گزشتہ دو روز کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ دو الگ الگ مقابلوں میں جو سری نگر کے چھتہ بل اور جنوبی ضلع شوپیان کے بڑی گام علاقے میں حزب المجاہدین اور لشکرِ طیبہ سے وابستہ آٹھ عسکریت پسند مارے گئے۔

پیر کے روز ہزاروں افراد نے ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن کر مارے گئے مظاہرین کی تدفین میں شرکت کی، وہاں بعض مقامات پر مشتعل نوجوانوں نے پولیس اور نیم فوجی دستوں پر پتھراؤ کیا۔

سری نگر کے مضافات میں واقع نارہ بل میں بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو کا ایک 22 سالہ سیاح آر تھِرومانی پتھراؤ کی زد میں آکر شديد زخمی ہوا اور بعد ازاں اسپتال میں چل بسا۔

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ چنئی (مدراس) کا یہ باشندہ اپنے کنبے کے ساتھ کشمیر کی سیاحت پر آیا ہوا تھا اور سری نگر سے گلمرگ جا رہا تھا کہ راستے میں ان کی گاڑی پتھراؤ کی زد میں آ گئی۔

اس واقعہ میں چار دوسرے افراد جن میں ایک مقامی نوعمر لڑکی بھی شامل ہے زخمی ہو گئے۔

عہدے داروں نے بتایا کہ زخمیوں کو سری نگر کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں نوجوان زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ پولیس اور اسپتال ذرائع نے بتایا کہ سیاح کے سر اور چہرے پر گہری چوٹیں آئی تھیں۔

وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی یہ خبر ملتے ہی سری نگر کے پولیس اسپتال پہنچیں جہاں انہوں نے آر تھِرومانی کے افرادِ خانہ سے تعزیت کی۔

حزبِ اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبد اللہ نے ایک ٹویٹ میں اس واقعہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سیاحوں کا احترام کرنے پر زور دیا ہے۔

سیاح کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سرکردہ مذہبی اور سیاسی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے ٹوئٹر پر لکھا: "سنگباری کے واقعے میں سیاح کے ہلاک ہوجانے کی خبر سن کر گہرا دکھ پہنچا ہے۔ میں اس غنڈہ گردی اور ہنگامہ پروری کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ ہماری اقدار اور سیاحوں کے ساتھ قابلِ احترام مہمانوں کی طرح پیش آنے کی روایات کے بالکل برعکس ہے اور اس سے عوامی تحریک کی بدنامی ہوئی ہے۔"

سوشل میڈیا پر کئی دوسری سیاسی، سماجی، مذہبی اور تجارتی تنظیموں، انجمنوں اور سول سوسائٹی گروپس سے وابستہ افراد اور عام لوگوں کی طرف سے بھی واقعے کی مذمت کی جارہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG