رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں شدید مظاہرے اور جھڑپیں


سکیورٹی فورس کی گاڑی سے نوجوان کچلا گیا تھا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے گرمائی صدر مقام سری نگر میں ہفتہ کو ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پر آکر بھارت مخالف نعرے لگائے اور پھر شہر کے فتح کدل علاقے کی طرف پیدل مارچ شروع کیا جہاں 21 سالہ قیصر بٹ کی تدفین ہونے والی تھی۔

قیصر بٹ اُن تین مقامی نوجوانوں میں شامل تھا جن پر بھارت کی وفاقی پولیس فورس 'سی آر پی ایف' نے جمعہ کو سرینگر کے نوہٹہ علاقے میں کئے گئے ایک بھارت مخالف مظاہرے کے دوراں اپنی گاڑی چڑھا دی تھی۔

تینوں زخمی نوجوانوں کو سری نگر کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ان میں سے ایک قیصر بٹ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخمی ہونے والے ایک اور نوجوان کی حالت تشویشناک ہے۔

مقامی پولیس نے سی آر پی ایف اور مظاہرین دونوں کے خلاف الگ الگ مقدمے درج کئے ہیں۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر امتیاز اسماعیل پرّے نے بتایا کہ جہاں سی آر پی ایف کے خلاف اقدامِ قتل اور تیزی اور غفلت سے گاڑی چلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہیں مظاہرین پر مہلک ہتھیار لے کر بلوہ کرنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر جمعہ کو پیش آئے اس واقعے پر وادی کشمیر میں لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور اس کے خلاف سری نگر میں خاص طور پر بڑھتے ہوئے تناؤ کے بیچ عوامی مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

سی آر پی ایف کا کہنا ہے کہ سنگبازوں کی طرف سے کئے گئے حملے کے دوران ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھودیا اور تین بلوائی اس کی زد میں آگئے۔ لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے مظاہرین پر جان بوجھ کر گاڑی دوڑائی۔ اس موقع پر لی گئی تصویریں سی آر پی ایف کے دعوے کو کمزور کرتی ہیں۔ اس سے پہلے 5 مئی کو مقامی پولیس نے سرینگر کے نور باغ علاقے میں پتھراؤ کرنے والے ایک 17 سالہ نوجوان عادل احمد یڈو پر اپنی گاڑی چڑھا کر اُسے ہلاک کیا تھا۔

تازہ واقعے میں مارے گئے نوجوان قیصر بٹ کی تدفین میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی۔ حفاظتی دستوں نے پہلے سرینگر کے فتح کدل علاقے میں جنازے پر اشک آور گیس چھوڑی اور پھر شہر کے مرکزی عید گاہ علاقے میں واقع شہداء کے مزار میں قیصر بٹ کو سپردِ خاک کئے جانے کے ساتھ ہی دوبارہ سوگواروں کے بیچ آنسو گیس کے گولے داغے جس سے متعدد افراد کو چوٹیں آئیں۔

بعد ازاں سری نگر کے کئی علاقوں میں مظاہرین اور سرکاری فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ یہ جھڑپیں اس خبر کی اشاعت تک جاری تھیں۔

اس سے پہلے ہفتہ کو علی الصباع سرینگر کے پرانے شہر اور چند دوسرے حساس علاقوں میں سیکڑوں کی تعداد میں تعینات مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کرفیو یا کرفیو جیسی پابندیاں عائید کیں۔

قوم پرست جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر امتناعی حراست میں لے لیا جبکہ سرکردہ آزادی پسند راہنما اور کشمیر کے میرواعظ محمد عمر فاروق کو ان کے گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے بزرگ کشمیری لیڈر سید علی شاہ گیلانی پہلے ہی اپنے گھر میں نظر بند تھے۔

حکام نے حفظ ماتقدم کے طور پر وادی کشمیر کے مرکزی اضلاع سرینگر اور بڈگام میں موبائیل انٹرنیٹ سروسز معطل کردیں جبکہ فکسڈ فون لائنوں پر دستیاب براڈ بینڈ سروسز کی اسپیڈ گھٹا دی گئی ہے تاکہ عہدیداروں کے بقول سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیز تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ نہ کی جاسکیں۔ سرینگر اور شمال مغربی شہر بارہ مولہ کے درمیان ریل سروسز کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

میرواعظ عمر نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ –"ڈاؤن ٹاؤن میں کرفیو لگادیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ بند کردیا گیا ہے اور مجھے گھر میں نظر بند کرکے غزوہ بّدر کی سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والے ایک جلسے سے خطاب کرنے سے روکا گیا ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ہم نے ایک اور نوجوان 21 سالہ قیصر بٹ کو کھودیا ہے جسے سی آر پی ایف کی ایک گاڑی نے کچل دیا۔ شدت کے ساتھ غمگین ہوں"۔

سرینگر میں مظاہرین پر سی آر پی ایف کی طرف سے گاڑی دوڑائے جانے کے واقعے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ اور حزبِ اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبد اللہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ " پہلے انہوں نے سنگبازوں کو باز رکھنے کے لئے لوگوں کو اپنی جیپوں کے آگے باندھ کر انہیں گاؤں گاؤں گھمایا ۔ اب وہ مظاہرین کے اُوپر گاڑیاں دوڑاتے ہیں –کیا یہ محبوبہ مفتی صاحبہ (موجودہ وزیرِ اعلیٰ) کی حکومت کا نیا اسٹنڈرڈ آپریشن پروسیجر ہے۔ سیز فائر کا مطلب ہے بندوقیں نہیں لہٰذا اب جیپیں استعمال کرو"۔

واضح رہے بھارتی حکومت نے اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف رمضان کے مہینے کے دوراں فوجی آپریشنز کو معطل کرکے مشروط عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

اس دوران ہفتے کو باقی ماندہ وادی کشمیر میں کی گئی ایک عام ہڑتال کی وجہ سے کاروبارِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔ مسلم اکثریتی وادی میں بازار اور تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ سڑکوں پر محدود پیمانے پر نجی گاڑیاں اور آٹو رکشا چل رہے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ریاست کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے فوج کے مقامی کمانڈر سے کہا ہے کہ وہ اپنے سپاہیوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسی حرکتوں سے اجتباب کرنے کے لئے کہیں جو لوگوں میں پائے جا رہے غم و غصے میں شدت پیدا کرنے کا باعث بنیں یا ماہِ رمضان کے احترام میں کئے گئے مشروط جنگ بندی کے اعلان سے پیدا شدہ "مثبت اثرات" کو زائل کردیں

اس دوران بھارت کے وزیرِ اعظم کے دفتر میں تعینات وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیر میں عسکریت پسندی ان کے بقول آخری مرحلے پر ہے۔ انہوں نے ریاست کے سرمائی دارالحکومت جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ" حکومت نے جو فیصلہ کُن اقدامات کیے ان کے نتیجے میں چھ سو جنگجو مارے گئے ہیں۔ اوریہ تعداد کانگریس پارٹی کے قیادت میں کام کرنے والی دو پچھلی حکومتوں میں مارے گئے جنگجوؤں سے زیادہ ہے"۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا رمضان سیز فائر کے بعد حکومت پاکستان اور علحیدگی پسندوں سے مذاکرات کرے گی تو انہوں نے کہا کہ "حکومت اس بارے میں وہ فیصلہ کرے گی جو قوم کے مفاد میں ہوگا"۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG