رسائی کے لنکس

logo-print

سرینگر: جھڑپوں میں ایک بچہ اور چھ عسکریت پسند ہلاک


فائل

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے بارہ مولہ، بانڈی پور اور شوپیان اضلاع کے مختلف علاقوں میں جمعرات کی رات اور جمعے کے روز چار الگ الگ جھڑپوں میں کم سے کم پانچ مشتبہ عسکریت پسند اور بارہ برس کا ایک لڑکا ہلاک ہو گئے۔

سری نگر میں عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں دو پاکستانی شہری علی اور حبیب بھی شامل ہیں جن کا تعلق کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ سے تھا۔ مارے جانے والے تین دوسرے عسکریت پسند مقامی کشمیری تھے۔

عہدیداروں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ضلع بانڈی پور کے حاجن علاقے میں جمعرات کی شام شروع کئے گئے ایک فوجی آپریشن کے دوران عسکریت پنسدوں نے ایک نجی گھر میں داخل ہونے کے بعد دو افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں سے ایک شہری عبدالحمید کو بچا لیا گیا لیکن عہدے داروں کے بقول دہشت گردوں نے 12 سالہ لڑکے عاطف احمد کو بے رحمی سے ہلاک کر دیا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

مقامی لوگوں کے مطابق طرفین کے درمیان رات بھر جھڑپیں جاری رہیں اور جمعے کو علی الصباح سیکورٹی فورسز نے اس گھر کو بارودی مواد سے اڑا دیا جس میں عسسکریت پسند محصور تھے۔ بعد میں مکان کے ملبے سے دو مشتبہ عسکریت پسندوں اور ایک بارہ سالہ لڑکے کی نعش ملی۔

ان جھڑپوں میں بھارتی فوج کے کم سے کم تین اہل کار بھی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ضلع شوپیان کے گاڑہ پورہ گاؤں میں عسکریت پسندوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان جھڑپ کے دوران مقامی لوگوں نے سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کئے۔

بعد میں مظاہرین اور سیکورٹی اہل کاروں کے درمیان تصادم ہوا۔ سیکورٹی دستوں نے احتجاج اور پتھراؤ کرنے والے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے چھرے والی بندوقیں استعمال کیں، جن سے ایک درجن سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔ ایک شخص کو گولی کا زخم بھی آیا ہے۔ پتھراؤ سے ایک پولیس اہل کار کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق پولیس کی تحویل میں تفتیش کے دوران ایک شخص کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے روکنے کے لیے سری نگر کے کئی علاقوں میں کرفیو کی سخت پابندیاں نافذ کیں۔

پولیس نے سری نگر کی جامع مسجد میں جمعے کی نماز پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی۔ تاریخی جامع مسجد کرفیو کے دائرے میں آنے والے علاقے میں واقع ہے۔

اس سے پہلے پولیس نے سرکردہ مذہبی اور سیاسی رہنما میر واعظ عمر فاروق کو سرینگر کے نگین علاقے میں واقع اُن کے گھر میں نظر بند کر دیا۔ وہ جامع مسجد میں جمعے کا خطبہ دیتے ہیں۔

استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے، جن میں میر واعظ عمر بھی شامل ہیں، لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ نماز جمعہ کے بعد پولیس کی حراست میں ایک نجی اسکول کے پرنسپل28 سالہ رضوان اسدخان کی ہلاکت کے خلاف پُر امن احتجاج کریں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رضوان کو دہشت گردی کے ایک مقدمے میں پوچھ گچھ کے لئے پکڑا گیا تھا۔ اس نے پولیس حراست سے بھاگنے کی کوشش کی تھی اور اس کی ہلاکت غالباً حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث ہوئی۔

رضوان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ اُس کے جسم پر تشدد کے واضح اور گہرے نشان موجود تھے جس سے اسے حراست کے دوران اذیتیں دے کر ہلاک کرنے کی نشان دہی ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG