رسائی کے لنکس

logo-print

'انہیں مارو جنہوں نے کشمیر کی ساری دولت لوٹ لی ہے'


گورنر ستیہ پال نے کہا تھا کہ عسکریت پسندوں کو عام لوگوں کے بجائے بدعنوان سیاست دانوں اور رشوت خور سرکاری افسران کو ہلاک کرنا چاہیے۔ (فائل فوٹو)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک کو متنازع بیان پر سیاسی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے اُنہیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔

گورنرستیہ پال ملک نے اتوار کی شام کرگل شہر میں ایک سیاحتی میلے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست میں سرگرم عسکریت پسندوں کو عام لوگوں اور پولیس افسران کی بجائے ایسے بدعنوان سیاست دانوں اور رشوت خور سرکاری افسران کو ہلاک کرنا چاہیے جو برس ہا برس تک ریاست کی دولت لوٹتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "یہ لڑکے جنہوں نے بندوق اُٹھا رکھی ہے فضول میں اپنے لوگوں کو مار رہے ہیں۔ وہ پولیس افسران کو نشانہ بناتے ہیں، پولیس افسران کی بجائے انہیں مارو جنہوں نے کشمیر کی ساری دولت لوٹ لی ہے۔"

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے گورنر نے ہتھیار اٹھانے والے نوجوانوں سے سوال کیا کہ " کیا تم نے اب تک کشمیر کی دولت لوٹنے والوں میں سے کسی کو مارا ہے؟"

انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ کئی ایسے کشمیری سیاست دان ہیں جو ریاست میں بر سرِ اقتدار رہ چکے ہیں اور بد عنوان سرکاری افسران نے لوٹی گئی دولت سے سرینگر، نئی دہلی، دبئی، لندن اور دنیا کے دوسرے شہروں اور ملکوں کے مہنگے ترین علاقوں میں جائیدادیں خریدی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیسہ لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنانے والے عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اُن میں سے چند ایک سری نگر کے پُر آسائش اور مہنگے ترین ہوٹلوں میں شراکت دار بھی ہیں۔

گورنر نے عسکریت پسندوں کو مبینہ بد عنوان سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کو ہدف بنانے سمیت انہیں تشدد کا راستہ چھوڑ کر بات چیت اور افہام و تفہیم کا راستہ اپنانے کا بھی مشورہ دیا تھا۔

گورنر ستیہ پال ملک کا مزید کہنا تھا کہ بندوق سے سیاسی مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا۔

اُن کے بیان پر سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین نے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اُن پر تشدد کو بڑھاوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

​سابق وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبد اللہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ " اس ٹویٹ کو محفوظ کرلیں۔ آج کے بعد جموں و کشمیر میں اگر قومی دھارے میں شامل کسی سیاست دان یا موجودہ و سابق بیورو کریٹ کو قتل کیا جاتا ہے تو ایسا گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے جاری کردہ احکامات کے تحت کیا جائے گا۔"

ایک اور ٹویٹ کے ذریعے عمر عبد اللہ نے گورنر کو مشورہ دیا کہ کسی دوسرے سیاست دان پر اُنگلی اُٹھانے سے پہلے وہ اپنے گریبان میں جھانکیں۔

انہوں نے کہا " یہ شخص جو ظاہراً ایک ذمہ دار آئینی منصب پر فائز ہے، عسکریت پسندوں کو بدعنوان سمجھے جانے والے سیاست دانوں کو ہلاک کرنے کے لیے کہتا ہے۔ شاید اس شخص کو چاہیے کہ غیر قانونی قتال اور بے ضابطہ عدالتوں کے قیام کی منظوری دینے سے پہلے وہ یہ پتہ کرے کہ دِلّی میں ان دنوں اس کی اپنی ساکھ کیا ہے۔"

​سیاسی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے ہونے والے سخت ردِ عمل اور شدید نکتہ چینی کے بعد گورنر ملک نے پیر کو کہا کہ انہوں نے یہ بیان ریاست میں بڑھتی ہوئی رشوت خوری اور بد عنوانی کے پیشِ نظر مایوسی اور غصے کی حالت میں دیا تھا۔

انہوں نے کہا " گورنر کی حیثیت سے مجھے ایسی رائے زنی نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن میرے ذاتی جذبات وہی ہیں جن کا میں نے کل اظہار کیا تھا۔ یہاں کے کئی سیاسی رہنما اور بڑے بیورو کریٹ کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں"۔

یاد رہے کہ شورش زدہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ تیرہ ماہ سے براہِ راست نئی دہلی کی حکومت ہے۔

جون 2018 کو پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد ریاست میں چھہ ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کیا گیا تھا جسے نومبر 2018 میں آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے صدر راج میں بدل دیا گیا تھا۔

نئی حکومت کے قیام کے لیے ریاست میں نئے اسمبلی انتخابات اس سال کے اختتام پر کرانے کی توقع کی جارہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG