رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی ایٹمی آبدوز اور طیارہ بردار جہاز بحیرہ عرب میں تعینات


بھارت کا طیارہ بردار جہاز وکرامادتیا۔ فائل فوٹو

بھارت نے اپنی بحری جنگی مشقیں مختصر کرتے ہوئے ایک ایٹمی آبدوز اور طیارہ بردار جہاز کو بحیرہ عرب میں تعینات کر دیا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پلوانہ خود کش حملے کے بعد بڑھنے والی کشیدگی کے سلسلے میں بھارت کی طرف سے یہ ایک بڑا اقدام ہے۔

بھارتی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں پاکستانی بحریہ مکران کے ساحل کے قریب محدود ہو گئی ہے اور اس کے جہازوں کا بحیرہ عرب میں آزادانہ گشت متاثر ہوا ہے۔

بھارتی بحریہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ بحیرہ عرب میں تعینات کئے جانے بحری اثاثوں میں جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سے لیس حملہ آور ایٹمی آبدوز، ایک طیارہ بردار جہاز اور درجنوں جنگی بحری جہاز شامل ہیں۔ بھارتی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس کے اس اقدام سے پاکستان کی بحری قوت بے اثر ہو گئی ہے۔

دفاعی ماہرین اور بھارتی بحریہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی بحریہ کی یہ تعیناتی دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمان پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے نتیجے میں شروع کئے گئے پاراکرم آپریشن کے بعد سے سب سے بڑی تعیناتی ہے۔

بھارت اور پاکستان اُس وقت بھی جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے۔

اس تعیناتی سے قبل بھارتی بحریہ نے 7 جنوری سے اپنی تھیٹر انداز کی بحری مشقوں کا آغاز کیا تھا جس میں 72 جنگی جہازوں اور 60 طیاروں نے حصہ لیا تھا۔ ان جنگی مشقوں کو ٹروپیکس 19 کا نام دیا گیا تھا۔ پروگرام کے مطابق یہ جنگی مشقیں 10 مارچ تک جاری رہنی تھیں۔ تاہم بھارتی بحریہ کے ذرائع کے مطابق پلوانہ حملے کے بعد انہیں مختصر کر دیا گیا۔

لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئی این ایس اری ہنت اور آئی این ایس چکرا کے بارے میں جو کہ وشاکھاپٹنم میں تعینات ہیں، بحریہ کی جانب سے تصدیق نہیں ہو سکی کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی انتہا پر بحیرہ عرب کی جانب چل پڑے تھے۔

پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے آئی این ایس اری ہنت کو بحر عرب میں تعینات کرنا پڑے گا۔ لیکن ایسا اس وقت ممکن ہو سکے گا جب بحریہ میں طویل مسافت تک مار کرنے والا میزائل K-4 شامل کر لیا جائے، جو کہ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے۔ ابھی اری ہنت کے پاس میزائل k-15 ہے جس کی مار 750 کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہے۔

ایک دفاعی تجزیہ کار اور فورس میگزین کے ایڈیٹر پروین ساہنی اس خبر کو غلط سمجھتے ہیں۔ انھوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اری ہنت ابھی تک پورا آپریشنل ہوا نہیں ہے۔ یہ خبر مجھے بالکل غلط لگ رہی ہے۔

پروین ساہنی نے یہ بھی کہا کہ چونکہ ایسی خبریں تھیں کہ پاکستانی بحریہ ہاربر سے باہر آگئی ہے اس لیے ہم نے کہہ دیا کہ ہم بھی تیار تھے۔

ان کے مطابق بالاکوٹ کارروائی کی وجہ سے فضائیہ کی تعریف ہو گئی ہے۔ ادھر سے خبر آئی ہے کہ پاکستان کی بحریہ پوری تیار تھی اور وہ اپنے ہاربر سے باہر آگئی تھی۔ لیکن ہماری کیا تیاری تھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مشق اور آپریشنل ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہیں پر مشق بھی تھی اور وہیں آپریشنل بھی ہو گئے تو یہ کیسے ممکن ہے۔

پروین ساہنی کے خیال میں یہ صرف حاضری درج کرانے کی بات ہے۔ تینوں مسلح افواج یہ جتانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ہم بھی تیار تھے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ یہاں کی بحریہ میں اہلیت نہیں ہے لیکن اس خبر کی صداقت سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔

پاکستانی مسلح افواج کی جانب سے اس بارے میں فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم 4 مارچ کو پاکستانی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اُس نے بھارت کی ایک آبدوز کی بحیرہ عرب میں پاکستانی پانیوں میں داخل ہونے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG