رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی اخبارات میں پریانکا گاندھی کے سیاسی لانچ کی دھوم


پریانکا گاندھی، فائل فوٹو

بھارت کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس کی جنرل سیکرٹری، سونیا گاندھی کی بیٹی اور کانگریس کے صدر راہول گاندھی کی بہن پریانکا گاندھی نے آج اپنا سیاسی کیرئیر لکھنؤ میں ایک سیاسی جلسے سے شروع کیا جس میں ہزاروں لوگوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔

سیاست میں پریانکا کی باقاعدہ آمد کی بھارتی اخبارات اور سوشل میڈیا پر بڑی دھوم مچی رہی۔

بھارت کے بڑے اخبارات نے اس سلسلے میں جو سرخیاں لگائیں وہ کچھ یوں ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا نے لکھا کہ پریانکا گاندھی اتر پردیش کے روڈ شو میں کانگریس کے ورکرز کے درمیان دھاڑتی رہیں۔

ٹائمز کے مطابق پریانکا گاندھی کی 25 کلومیٹر طویل رتھ یاترا کے دوران کانگریس کے پرجوش حامی مسلسل پریانکا کی گاڑی کے پاس آ آ کر اپنی تصویریں کھینچتے رہے۔

دی ہندو نے لکھا کہ پریانکا گاندھی، راہول گاندھی اور جیوتریڈا شنڈے جو مغربی خطے کے کانگریس کے انچارج ہیں نے جب 25 کلومیٹر طویل ریلی شروع کی تو ان پر پھول کی پتیاں پھینکی گئیں۔

دی ہندو کا کہنا تھا کہ اس موقع پر سڑکوں پر ایسے پوسٹرز لگائے گئے تھے جن میں پریانکا کو آندھی کہہ کر پکارا گیا تھا اور بعض بورڈز میں انہیں اندرا گاندھی سے تشبیح دی گئی تھی۔

ہندوستان ٹائمز نے سرخی لگائی کہ پریانکا گاندھی کی عظیم ریلی میں راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ اب اتر پردیش کو واپس لینے کا وقت آ چکا ہے۔ اخبار نے لکھا یوں محسوس ہوتا ہے کہ اندرا گاندھی واپس لوٹ آئی ہیں۔

انڈین ایکسپریس نے بھی اپنی سرخی میں لکھا کہ پریانکا گاندھی کے لکھنؤ کے روڈ شو میں راہول گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیئے ہیں۔

انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ سیاسی ریلی کے دوران پریانکا گاندھی مسلسل وین کے اوپر چڑھ کر حامیوں کو ہاتھ ہلاتی رہیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق روڈ شو میں اپنی طاقت کا اظہار اس لئے بھی اہم ہے کہ کانگریس پارٹی نے اتر پردیش میں اکیلے انتخابات میں اترنے کا ارادہ کر لیا ہے۔

دکن ہیرالڈ نے لکھا کہ راہول کا کہنا ہے کہ پریانکا یو پی فتح کرنے کے لئے آئی ہیں۔

ٹوئیٹر پر شیکھر گپتا نے کہا کہ اگرچہ پریانکا گاندھی سیاست میں لانچ ہو رہی ہیں مگر بات سارے اندرا گاندھی کی کر رہے ہیں۔

سگاریکا گھوس نے لکھا کہ پولیس کے پہرے میں ٹرک کے اوپر سے لوگوں کو ہاتھ ہلاتی پریانکا کی شبیہ کچھ اتنا بھی اچھا سیاسی آغاز نہیں ہے۔ اندرا گاندھی اتنے ہجوم میں بھی پیدل چل کر جاتیں۔

اپنے سیاسی کیرئیر کے لانچ کے موقع پر ریلی میں جانے سے پہلے پریانکا گاندھی نے ٹوئیٹر پر بھی اپنا اکاؤنٹ بنایا جسے چند ہی گھنٹوں میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے فالو کر لیا ہے۔

سیاستدان اور لکھاری ششی تھرور نے لکھا کہ ایک سپرسٹار پیدا ہو گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG