رسائی کے لنکس

logo-print

مودی کی مہاتیر محمد سے ملاقات، کشمیر اور ذاکر نائیک پر گفتگو


فائل فوٹو

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمّد سے ملاقات کی ہے۔

یہ ملاقات جمعرات کو روس میں ہوئی ہے جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دیگر دو طرفہ معاملات کے علاوہ کشمیر اور ملائیشیا میں مقیم بھارتی نژاد مبلغ ذاکر نائیک کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم ’ایسٹرن اکنامک فورم‘ کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے روس میں موجود ہیں۔

مہاتیر محمد سے ملاقات کو نریندر مودی نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم سے ملاقات بہت اچھی رہی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات مزید بہتر کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

بھارت کے سیکریٹری خارجہ وجے گوکھلے نے اس ملاقات سے متعلق صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کشمیر کی صورتِ حال پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔

نریندر مودی نے مہاتیر محمد کو کشمیر میں اپنے اقدامات سے آگاہ کیا کہ ان کے اقدامات کا مقصد کشمیر میں گورننس کی بہتری اور سماجی و معاشی انصاف کی فراہمی ہے۔

وجے گوکھلے کے مطابق کشمیر سے متعلق معاملات میں زیادہ توجّہ پاکستان سے ہونے والی دہشت گردی پر مرکوز رہی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی توجّہ دہشت گردی پر تھی کہ دہشت گردی کے بڑھتے خطرات پر کیسے قابو پایا جائے۔

دوسری جانب اس ملاقات میں مذہبی اسکالر ذاکر نائیک کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

سیکریٹری خارجہ وجے گوکھلے کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ بھارتی اور ملائیشین حکام ذاکر نائیک کے معاملے پر رابطے میں رہیں گے۔

واضح رہے کہ ذاکر نائیک نے 2016 میں بھارت چھوڑ کر ملائیشیا میں رہائش اختیار کرلی تھی۔ جس کے بعد سے بھارت ان پر منی لانڈرنگ اور شدّت پسندی پھیلانے کے الزامات لگاتا رہا ہے اور ان کی حوالگی کا خواہاں ہے۔

نریندر مودی اور مہاتیر محمد کی ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے اور باہمی تعلقات مزید بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی مہاتیر محمّد سے فون پر رابطہ کیا تھا اور کشمیر کی صورتِ حال پر گفتگو کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG