رسائی کے لنکس

logo-print

سیاچن میں برف سے زندہ نکالا گیا بھارتی فوجی جانبر نہ ہو سکا


فوج کے ایک ترجمان کرنل روہن آنند کا کہنا ہے کہ لانس نائیک ہنومان تھاپا کو تشویشناک حالت میں نئی دہلی کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا تاہم جمعرات کو اس کا انتقال ہو گیا۔

بھارتی فوج نے کہا ہے کہ چھ روز قبل کشمیر کے متنازع علاقے میں واقع سیاچن میں برفانی تودے کے نیچے سے زندہ برآمد ہونے والے فوجی کی ایک اسپتال میں موت واقع ہو گئی ہے۔

فوج کے ایک ترجمان کرنل روہن آنند کا کہنا ہے کہ لانس نائیک ہنومان تھاپا کو تشویشناک حالت میں نئی دہلی کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا تاہم اس کی حالت مزید بگڑ گئی اور جمعرات کو اس کا انتقال ہو گیا۔

اسے پیر کو برفانی تودے کے نیچے سے زندہ برآمد کر لیا گیا تھا جب کہ دیگر نو فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

تلاش کا کام شروع ہونے کے ایک دن بعد فوج نے کہا تھا کہ کسی کے زندہ بچنے کے امکانات ’’بہت کم‘‘ ہیں۔ تاہم بعد میں امدادی کارکنوں نے ہنومان تھاپا کو معجزانہ طور پر زندہ برآمد کر لیا ۔

گزشتہ ہفتے سیاچن گلیشیئر کے علاقے میں 19,600 فٹ کی بلندی پر 10 فوجی ایک برفانی تودے کے نیچے دب گئے تھے جہاں بھارت اور پاکستان تین دہائیوں سے وقتاً فوقتاً برسرپیکار رہے ہیں۔ سیاچن کو 'دنیا کی چھت' پر واقع میدان جنگ کہا جاتا ہے۔

ہزاروں پاکستانی اور بھارتی فوجی قراقرم پہاڑی سلسلے میں انتہائی بلندی پر واقع سیاچن گلیشیئر میں اپنے اپنے زیر قبضہ علاقے کے دفاع کے لیے متعین ہیں جہاں انہیں بلندی پر طبیعت خراب ہونے، تیز آندھیوں، جسم کو مفلوج کرنے والے برفانی ماحول اور انتہائی کم منفی درجہ حرارت کا سامنا رہتا ہے۔

یہاں دشمن کی فائرنگ کی نسبت شدید موسم اور برف کے تودے گرنے سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG