رسائی کے لنکس

بھارت کلبھوشن یادو کی بیگم کو تنہا پاکستان بھیجنے پر راضی نہیں


بھارتی حکومت کلبھوشن یادو کی والدہ کو بھی ساتھ آنے کی اجازت دینے کیلئے پاکستانی حکومت کے فیصلے  کی منتظر ہے۔

بھارتی حکومت اس بات پر راضی نہیں ہے کہ پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی بیگم کو تنہا ہی ملاقات کیلئے پاکستان روانہ کیا جائے۔ بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ کلبھوشن کی بیگم کے ساتھ اُن کی والدہ کو بھی پاکستان بھیجنا چاہتی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کلبھوشن یادو کی والدہ کو بھی ملاقات کی اجازت دینے کے حوالے سے پاکستان کے رسمی فیصلے کی منتظر ہے۔ اُن کا کہنا ہے، ’’صرف اُن کی بیگم کو ملاقات کی اجازت دینے کا فیصلہ منصفانہ نہیں ہے۔ ہم کلبھوشن کی والدہ کو بھی ملاقات کی اجازت دینے کے سلسلے میں پاکستانی حکومت کے فیصلے کے منتظر ہیں اور یہی ہماری پہلی درخواست تھی۔‘‘

پاکستانی حکومت نے 10 نومبر کو پیشکش کی تھی کہ کلبھوشن کی اہلیہ اُن سے ملاقات کر سکتی ہیں۔ بھارتی حکومت نے اس فیصلے پر اپنا ردعمل سفارتی ذرائع سے پاکستانی حکام کے پاس پہنچایا ہے۔ بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے اُن کی والدہ کو ملاقات کی اجازت دینے کے معاملے کو نظر انداز کرنا غیر متوقع ہے۔

ایک اور بھارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کلبھوشن یادو تک کونسلر رسائی دینے کی درخواست کے سلسلے میں بھی پاکستانی فیصلے کی منتظر ہے۔ بھارتی حکومت کلبھوش یادو کے کیس کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں لیجا چکی ہے جہاں اس کیس کی سماعت جاری ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے 18 نومبر کو ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ پاکستان کی طرف سے انسدانی ہمدردی کی بنیاد پر کمانڈر کلبھوشن یادو کے سلسلے میں دی گئی پیشکش کے سلسلے میں اُنہیں بھارتی جواب کا انتظار ہے۔

اس سے قبل پاکستان میں فوجی عدالت نے یادو کی طرف سے رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ اب یہ رحم کی اپیل پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے زیر غور ہے۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ کلبھوش یادو بھارت کے حاضر سروس نیوی کے کمانڈر ہیں جبکہ نئی دہلی نے اسے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یادو کو گزشتہ سال ایران کی بندرگاہ چاہبہار سے اغوا کر کے پاکستان لایا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG