رسائی کے لنکس

بھارت: عدالت عالیہ کے جج کو چھ ماہ قید کی سزا


بھارت کی سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ "توہین عدالت کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کیا ہے۔۔۔وہ ایک جج ہے یا عام آدمی۔"

بھارت کی عدالت عظمیٰ نے اعلیٰ عدلیہ کے ایک جج کو توہین عدالت کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے منگل کو کولکتہ ہائی کورٹ کے جج سی ایس کرنن کو یہ سزا سناتے ہوئے کہا کہ " اگر ہم جسٹس کرنن کو جیل نہیں بھیجتے تو یہ سپریم کورٹ پر ایک دھبہ ہو گا کہ اس نے ایک جج کی طرف سے توہین عدالت کو معاف کر دیا۔"

جسٹس کرنن نے ایک روز قبل ہی چیف جسٹس آف انڈیا اور سپریم کورٹ کے دیگر سات ججوں کو پانچ، پانچ سال قید کی سزا سناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تمام بھارت میں نچلی ذاتوں اور قبائلیوں پر مظالم کے خلاف وضع کردہ قانون کو توڑنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ جسٹس کرنن کو عدالت عظمیٰ میں پیش ہونے کا کہتی رہی ہے لیکن وہ ہمیشہ ان پیشیوں پر غیر حاضر رہے اور منگل کو فیصلے کے وقت بھی وہ عدالت عظمیٰ میں موجود نہیں تھے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ "توہین عدالت کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کیا ہے۔۔۔وہ ایک جج ہے یا عام آدمی۔"

جسٹس کرنن آئندہ ماہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے والے ہیں لیکن عدالت عظمیٰ نے انھیں فوری گرفتار کر کے جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG