رسائی کے لنکس

جسمانی معذوری کے باعث 2010 سے ارمان وھیل چیئر استعمال کررہے ہیں، اور فلم دیکھنے سینما ہال گئے تھے ۔

بھارت کے شہر گوہاٹی کے ایک ملٹی پلیکس سنیما میں وھیل چیئر پر بیٹھے ایک فلم بین شخص کو پاکستانی کہہ کر ہراساں کیا گیا۔

ارمان علی اپنے رشہ داروں کے ہمراہ فلم دیکھنے سنیما پہنچا تھا جہاں اسے اس شرمندگی سے دوچار ہونا پڑا۔ 36 سالہ ارمان جسمانی معذوری کے باعث 2010 سے وھیل چیئر استعمال کرنے پر مجبور ہے۔

ارمان علی نامی یہ مسلمان شخص ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم ’شیشو سروتھی‘ کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہے۔ فلم شروع ہونے سے قبل جب بھارتی کا قومی ترانہ بجایا گیا تو ارمان علی جسمانی معذوری کے باعث کھڑا نہ ہو سکا اور اُس کی پچھلی لائن میں کھڑے ایک شخص نے بلند آواز سے کہا، ’’میرے سامنے ایک پاکستانی بیٹھا ہے۔‘‘

ارمان علی اپنے رشہ داروں کے ہمراہ فلم دیکھنے سنیما پہنچا تھا جہاں اسے اس شرمندگی سے دوچار ہونا پڑا۔ 36 سالہ ارمان جسمانی معذوری کے باعث 2010 سے وھیل چیئر استعمال کرنے پر مجبور ہے۔

ارمان علی نے بعد میں بتایا کہ وہ ملک میں جاری حالات کے باعث خوف کی وجہ سے خاموش رہا ۔ اُس نے بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ ایسے وقت میں جب کسی چھوٹی سی بات پر لوگ بھڑک کر کسی شخص کو مار مار کر ہلاک کر دیتے ہیں، اگر وہ جواب میں کچھ کہتا تو خطرہ تھا کہ ہال میں موجود افراد یہ جان کر اُس کے خلاف ہو جاتے کہ وہ ایک مسلمان ہے۔

علی جسمانی طور پر معذور افراد کے حقوق کیلئے فعال طور پر کام کر رہا ہے۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال نومبر میں فیصلہ دیا تھا کہ ہر سنیما میں فلم شروع ہونے سے قبل 52 سیکنڈ لمبا قومی ترانہ دکھایا جائے جس کے دوران سنیما دیکھنے آنے والے تمام لوگ سیٹوں سے اُٹھ کر با ادب کھڑے رہیں۔ بعد میں 9 دسمبر کو اپنے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بیساکھیاں اور وھیل چیئر استعمال کرنے والے جسمانی طور پر معذور افراد اس سے مستثنا ء ہوں گے تاہم اُنہیں قومی ترانے کے دوران ترانے پر پوری توجہ دینی ہو گی۔

گزشتہ اکتوبر میں گووا کے ایک سنیما میں قومی ترانے پر کھڑا نہ ہونے کی بنا پر ایک جوڑے نے ایوارڈ یافتہ مصنف سلیل چوہدری پر حملہ کیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ سلیل چوہدری فالج کے باعث وھیل چیئر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG