رسائی کے لنکس

پنجاب میں انفلوئنزا کی وبا، ہلاکتیں 41 ہوگئیں


فائل فوٹو
فائل فوٹو

جمعے کی صبح بھی نشتر اسپتال ملتان میں زیرِ علاج خانیوال کی رہائشی ایک سترہ سالہ خاتون انفلوئنزا کے باعث انتقال کرگئیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کچھ شہر ان دنوں موسمی زکام 'انفلوائنز ایچ ون این ون' کی وبا کا شکار ہیں جس سے اب تک صوبے میں 41 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

انفلوئنزا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان شامل ہیں جہاں اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 431 تک پہنچ گئی ہے۔

نشتر اسپتال ملتان کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ان کے اسپتال میں انفلوئنزا کے 235 مریض لائے گئے تھے جن میں سے 116 میں 'ایچ ون این ون' کی تصدیق ہوئی ہے۔

جمعے کی صبح بھی نشتر اسپتال ملتان میں زیرِ علاج خانیوال کی رہائشی ایک سترہ سالہ خاتون انفلوئنزا کے باعث انتقال کرگئیں۔

ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے بقول 'ایچ ون این ون' کا پہلا مریض اکتوبر 2017ء میں سامنے آیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ نشتر اسپتال میں اب تک 38 مریض اس بیماری کے ہاتھوں لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بعد جدید ویکسین منگائی ہے جس سے متاثرہ مریضوں کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

جناح اسپتال لاہور ميں زيرِ علاج 24 سالہ عاليہ کے چند دن پہلے 'ایچ ون این ون' سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد وہ جانبر نہیں ہوسکی تھیں۔

ان کے انتقال کے بعد صوبائی دارلحکومت لاہور ميں انفلوئنزا سے مرنے والے مريضوں کي تعداد تین ہو گئی ہے۔

جنرل اسپتال لاہور کے اسسٹنٹ میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر جعفر شاہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرت ہوئے بتایا کہ ان کے اسپتال میں ایک مریض میں انفلوئنزا کے جراثیم پائے گئے ہیں تاہم اس کی حالت بہتر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موسمی انفلوئينزا کا شکار مريض کو جسم ميں شديد درد، دماغی دباؤ جبکہ سانس لينے ميں دقت محسوس ہوتی ہے۔

محکمۂ صحت پنجاب کے ترجمان کے مطابق موسمی زکام سے متاثرہ افراد کی زیادہ تر تعداد جنوبی پنجاب میں ہے جن کے لیے اسپتالوں میں علیحدہ یونٹ قائم کر دیے گئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق لاہور کے اسپتالوں میں اب تک مجموعی طور پر 34 مريض لائے جاچکے ہیں جن ميں سے 12 افراد ميں انفلوئينزا 'اين ون ايچ ون' کی تصديق ہوچکی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق 'ایچ ون این ون' کے 40 سال سے زیادہ عمر کے افراد پر حملے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جبکہ دل، دمے اور سانس کے مریضوں میں اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے جو موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ متاثرہ مریض سے میل جول میں احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ یہ بیماری سانس کے ذریعے بھی پھیلتی ہے۔ متاثرہ شخص سے ملاقات کے وقت ناک کو ڈھانپا جائے اور ملاقات کے بعد ہاتھوں کو دھو لینا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG