رسائی کے لنکس

logo-print

متنازع کشمیر میں جنگ بندی لائن کے آرپار بس سروس بحال


فائل فوٹو

پلوامہ حملے کے بعد معطل کی گئی سرینگر مظفرآباد، راولاکوٹ پونچھ انٹرا کشمیر بس سروس ایک ہفتہ بعد بحال کردی گئی ہے ۔

پیر کے روز لائن آف کنٹرول کے دونوں کراسنگ پوائنٹ سے 31 مسافر آر پار پہنچ گئے۔

پلوامہ حملہ کے بعد بھارت نے گذشتہ ہفتے پیر کے روز سرینگر مظفرآباد، راولاکوٹ، پونچھ بس سروس معطل کر دی تھی جس کے بعد دونوں اطراف درجنوں مسافر پھنس گئے تھے۔

پیر کے روز پاکستانی کشمیر کے چکوٹھی اورتیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ سے 13 مسافر بھارتی کشمیر پہنچ گئے۔ بھارتی کشمیر کے اوڑی اور چکاں دا باغ کراسنگ پوائنٹ سے 18 مسافر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پہنچے ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی اعجاز احمدمیر کے رشتہ داروں کو بھی پیر کے روز سری نگر سے بس سروس کے ذریعے مظفرآباد پہنچنا تھا لیکن بھارتی حکام نے انہیں سفر کی اجازت نہ دی ۔

اعجاز میر نے بتایا کہ انکے رشتہ داروں سے گزشتہ پیر کو جمع کیا گیا پرمٹ انکو واپس نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے آج وہ نہیں آ سکے ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے معروف تجزیہ کار عارف بہار نے وائس آف امریکہ سے بات چیت میں کہا کہ بس سروس کی بحالی پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں مثبت قدم ہے ۔

عارف بہار نے کہا کہ کنٹرول لائن کے آر پار بس سروس کی بحالی کو صورت حال میں بہتری کے آثار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

پاکستان اور پیارے کے درمیان منقسم کشمیر کے دو حصوں کے درمیان آباد عشروں سے بچھڑے کشمیری خاندانوں کے ملاپ کے لیے 2005 میں بس سروس کا آغاز کیا تھا جو ہر ہفتے کو پیر کے روز چلتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG