رسائی کے لنکس

اولمپکس میں اسرائیل کی شرکت پر ایران اورانتہائی بائیں بازو کے فراسیسی  قانون سازوں کا احتجاج

انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھامس باخ اولمپک ویلیج سمر اولمپکس 2024 میں اولمپک ٹروس وال  افتتاحی تقریب کے دوران اسرائیلی سوکر پلئیر نیو یہشوا کو  گلے لگا رہے  ہیں فوٹو اے پی
انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھامس باخ اولمپک ویلیج سمر اولمپکس 2024 میں اولمپک ٹروس وال افتتاحی تقریب کے دوران اسرائیلی سوکر پلئیر نیو یہشوا کو گلے لگا رہے ہیں فوٹو اے پی
  • ایران نے اولمپک گیمز میں غزہ جنگ کے حوالے سے اسرائیلی ایتھلیٹس کے اخراج کا مطالبہ کیا۔
  • " غزہ کے معصوم لوگوں کے خلاف جنگ کی وجہ سے وہ پیرس اولمپکس میں شرکت کےحقدار نہیں ہیں۔"ایرانی وزارت خارجہ
  • فرانسیسی دارالحکومت میں اسرائیل دستے کو سخت سیکیوریٹی فراہم کی جا رہی ہے۔
  • گزشتہ اگست میں، ایرانی حکام نے ویٹ لفٹر مصطفیٰ رجائی پر اس وقت تاحیات پابندی عائد کر دی جب اس نے پولینڈ میں ایک تقریب میں ایک اسرائیلی حریف سے مصافحہ کیا۔ یہ بات اس وقت سرکاری میڈیا نے رپورٹ کی تھی ۔
  • فرانس کےانتہائی بائیں بازو کے قانون سازوں نے کہاتھا کہ اسرائیل کے کھلاڑیوں کی اولمپکس میں موجودگی کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

ایران نے منگل کو پیرس میں ہونے والے اولمپکس میں اسرائیلی ایتھلیٹس کے "استقبال اور انہیں فراہم کی جانے والی سخت سیکیورٹی کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کے غزہ جنگ سے نمٹنے کے حوالے سے ان کے اخراج کا مطالبہ کیا۔

جمعہ کی افتتاحی تقریب سے قبل پیر کو فرانس پہنچنے والے اسرائیلی وفد کو ،غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بلند تعداد اوروہاں پیدا ہونےوالے انسانی ہمدردی کے بحران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی غم و غصے کے دوران، فرانسیسی دارالحکومت میں سخت تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں پوسٹ میں منتظمین سے اسرائیل پر پابندی لگانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ " غزہ کے معصوم لوگوں کے خلاف جنگ کی وجہ سے وہ پیرس اولمپکس میں شرکت کےحقدار نہیں ہیں۔"

فرانس کے وزیرِ داخلہ جیرالڈ دارمینن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ کھیلوں کے مقابلوں میں اسرائیل کے کھلاڑیوں کو مسلسل سیکیورٹی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

اولمپکس 2024: پیرس کے تاریخی مقامات پر کھیلوں کے مقابلے

اولمپکس میں آئفل ٹاور کے قریب بیچ والی بال کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔
1/10 اولمپکس میں آئفل ٹاور کے قریب بیچ والی بال کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔
آئفل ٹاور کی تعمیر 1889 میں ہوئی تھی۔
2/10 آئفل ٹاور کی تعمیر 1889 میں ہوئی تھی۔
پیرس کے گرینڈ پالے میوزیم میں فینسنگ اور تائی کوانڈو کے مقابلے ہوں گے۔
3/10 پیرس کے گرینڈ پالے میوزیم میں فینسنگ اور تائی کوانڈو کے مقابلے ہوں گے۔
یہ میوزیم 1900 میں تعمیر کیا گیا تھا جس کا منفرد آرکیٹیکچر اس کی پہچان ہے۔
4/10 یہ میوزیم 1900 میں تعمیر کیا گیا تھا جس کا منفرد آرکیٹیکچر اس کی پہچان ہے۔
پیرس اولمپکس 2024 میں معروف اسکوائر پلاس ڈا لا کونکورڈ میں اسکیٹ بورڈنگ، باسکٹ بال، بی ایم ایکس فری اسٹائل او بریک ڈانس کے مقابلے ہوں گے۔
5/10 پیرس اولمپکس 2024 میں معروف اسکوائر پلاس ڈا لا کونکورڈ میں اسکیٹ بورڈنگ، باسکٹ بال، بی ایم ایکس فری اسٹائل او بریک ڈانس کے مقابلے ہوں گے۔
پلاس ڈا لا کونکورڈ پیرس کا تاریخی مقام ہے جس کی پہچان دیوہیکل سنہری مینار ہے۔
6/10 پلاس ڈا لا کونکورڈ پیرس کا تاریخی مقام ہے جس کی پہچان دیوہیکل سنہری مینار ہے۔
اولمپکس 2024 میں گُھڑ سواری کے مقابلے پیرس کے تاریخی مقام پیلس آف ورسائل میں منعقد ہوں گے۔
7/10 اولمپکس 2024 میں گُھڑ سواری کے مقابلے پیرس کے تاریخی مقام پیلس آف ورسائل میں منعقد ہوں گے۔
پیلس آف ورسائل کو 1979 میں عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا تھا۔ 
8/10 پیلس آف ورسائل کو 1979 میں عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا تھا۔ 
پیرس کے علاوہ اولمپکس 2024 میں سیلنگ کے مقابلے مارسے شہر میں منعقد ہوں گے۔
9/10 پیرس کے علاوہ اولمپکس 2024 میں سیلنگ کے مقابلے مارسے شہر میں منعقد ہوں گے۔
دنیا بھر سے لگ بھگ 300 سیلرز مقابلے میں شریک ہو رہے ہیں۔
10/10 دنیا بھر سے لگ بھگ 300 سیلرز مقابلے میں شریک ہو رہے ہیں۔
Previous slide
Next slide

فرانس کے شہر پیرس میں اولمپکس کا آغاز جمعے سے ہو رہا ہے۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ یوکرین اور غزہ میں جاری جنگیں ہیں۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فرانس میں انتہائی بائیں بازو کے قانون سازوں کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے کھلاڑیوں کو خوش آمدید نہیں کیا جائے گا اور ان کی اولمپکس مقابلوں میں موجودگی کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

رائٹرز نے کہا ہے کہ اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ کے سبب غزہ میں شدید تباہی کو فرانس میں بائیں بازو کے سیاسی حلقے شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جب کہ بعض حلقے فلسطینیوں کے حامیوں پر یہود دشمنی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

ایران اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور ایرانی اور اسرائیلی ایتھلیٹس کے درمیان ہر طرح کے رابطے پر پابندی لگاتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے فلسطینی نصب العین کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز بنایا ہواہے۔

فروری میں، ایران کی فٹ بال فیڈریشن نے کھیلوں کی گورننگ باڈی، فیفا سے کہا تھا کہ وہ غزہ کی جنگ کی وجہ سے اس کے اسرائیلی ہم منصب کو معطل کرے۔

گزشتہ اگست میں، ایرانی حکام نے ویٹ لفٹر مصطفیٰ رجائی پر اس وقت تاحیات پابندی عائد کر دی جب اس نے پولینڈ میں ایک تقریب میں ایک اسرائیلی حریف سے مصافحہ کیا۔ یہ بات اس وقت سرکاری میڈیا نے رپورٹ کی تھی ۔

2021 میں، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کھلاڑیوں پر زور دیا تھا کہ " میڈل حاصل کرنے کے لیے [اسرائیلی] مجرم حکومت کے کسی نمائندے سے مصافحہ نہ کریں۔"

اولمپکس کی تاریخ کے بڑے تنازعات کون سے ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:49 0:00

غزہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر کو ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حماس کے اسرائیل پر حملوں سے ہوا، جس کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف اسرائیل کی جوابی کارروائی میں غزہ میں کم از کم 39,090 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ مئی میں، اسرائیل نے مرنے والوں کی تعداد 30,000 کے لگ بھگ بتائی تھی، اور بتایا تھا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر جنگجو تھے۔

اس رپورٹ کا مواد اے ایف پی سے لیا گیا ہے۔

فورم

XS
SM
MD
LG