رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: جوہری ایندھن کے تبادلے کی تفیصلات آئی اےای اے کے حوالے


ایران نے جوہری امور کے نگران اقوام متحدہ کے ادارے کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ترکی کے ساتھ اپنی کچھ افزودہ یورینیم کے معاہدے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

تہران نے اپنا یہ خط پیر کے روز جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے حوالے کیا۔ خط میں اس منصوبے کے بارے میں بتایاگیا ہے جس کے تحت وہ تہران کے میڈیکل ریسرچ ری ایکٹر کے ایندھن کے لیے اپنے 1200 کلوگرام کم افزودہ یورینیم کا تبادلہ زیادہ درجے کے افزدوہ یورینیم کے ساتھ کرنے کے لیے اسے ترکی بھیجے گا۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے’ ارنا نیوز ایجنسی‘ نے خط کے مندرجات جاری کیے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت کم درجے کی افزدوہ یورینیم ترکی میں بدستور تہران کی ملکیت رہے گی۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اور آئی اے ای اے ترکی میں اس یورینیم کی حفاظتی نکتہ نظر سے نگرانی کے لیے اپنے مبصر تعینات کرسکیں گے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ایندھن کا تبادلہ دوسرے ملکوں کے ساتھ تعاون کا نقطہٴ آغاز ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ باہمی تعلقات کی سمت ایک قدم ہے جو ان تنازعات سے بچانے میں مدومعاون ثابت ہوگا جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت تہران کے حقوق اور ذمہ داریوں کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG