رسائی کے لنکس

logo-print

سابق ایرانی صدر خاتمی کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی کی افواہ


محمود علی زادہ طباطبائى نے کہا ہے کہ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کی یہ اطلاع جھوٹ ہے

ایران کے سابق صدر محمد خاتمی کے ایک وکیل نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اصلاحات کے حامی سیاست داں پر پابندی عائد کردی گئى ہے کہ وہ ملک سے باہر نہیں جاسکتے۔

محمود علی زادہ طباطبائى نے کہا ہے کہ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کی یہ اطلاع جھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سفر پر کوئى پابندی عموماً کسی عدالتی فیصلے کا تقاضہ کرتی ہے اور مسٹر خاتمی کے لیے ایسا کوئى فیصلہ نہیں کیا گیا ۔

مسٹر خاتمی گذشتہ صدارتی انتخاب کے دوران ہارے ہوئے صدارتی اُمیدوار مِیر حسین موسوی کے ایک اہم حامی تھے۔جون 2009 کے صدارتی الیکشن کے بعد موسوی نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ الیکشن میں دھاندلی کی گئى ہے ، احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی تھی۔

ایرانی حکومت نے اُن مظاہروں کو بذریعہ طاقت کچل دیا تھا اور پکڑ دھکڑ کی ایک مہم میں سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کرلیا تھا۔

اسی دوران منگل کے روز سے اُن 12 افراد کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہوگئى،جن پر تہران کے ایک جیل میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں گرفتار کیے جانے والے لوگوں کو اذیّتیں پہنچانے کا الزام ہے۔ ابتدائى چھان بین سے پتا چلا ہے کہ تہران کے اس جیل میں کم سے کم تین قیدیوں کو مار مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG