رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری پلانٹ پر حملے کے خلاف ایران کا انتباہ


منگل کو ایران نےکہا کہ اُس کے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر کیا جانے والا کوئی حملہ بین الاقوامی جرم کے مترادف ہوگا۔

ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے یہ انتباہ ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کیا، ایسے وقت جب ایران پہلی مرتبہ روسی ایندھن سےچلنے والے ری ایکٹر کا افتتاح کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ایران، 21اگست کوبوشہر کے پاور پلانٹ کاافتتاح کرنے کی تیاری کر رہا ہے جِس میں روس کی طرف سے مہیا کردہ ایندھن کا استعمال ہوگا۔ پلانٹ، چند دِنوں کے اندر اندر بجلی پیدا کرنا شروع کر دے گا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے کے مبصرین اِس عمل کی نگرانی کریں گے۔

اقوامِ متحدہ نے ایران کو اُس کےجوہری پروگرام جاری رکھنے کی پاداش میں ایران پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ایران کے بارے میں امریکہ اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ وہ ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تہران اس الزام کی تردید کرتارہا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اُس کا پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران پر یہ پابندیاں اِس لیے لگائی گئیں ہیں کہ اُس نے یورینیم کی افزودگی بند کرنے سے انکار کر دیا ہے، جِس عمل کے ذریعے

آخر کار ایران جوہری بم بنانے کے لیے مواد پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ سویلین پاور ری ایکٹروں کے لیے ایندھن حاصل کرنا چاہتا ہے۔

پیر کے روز، وائٹ ہاؤس ترجمان رابرٹ گِبز نے کہا کہ روس کے ساتھ جوہری ایندھن کے بندوبست سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کو اپنے طور پر یورینیم کی افزودگی کی کوئی ضرورت نہیں ۔

دریں اثنا، اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق نمائندے جان بولٹن نے امریکی خبروں کے ٹیلی ویژن چینل فوکس نیوز کو بتایا کہ اسرائیل ایران کی بوشہر تنصیب پر آٹھ دنوں میں حملہ کر سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اِس مرحلے کے بعد ریڈئیشن پھیلنے کا بہت زیادہ خطرہ ہوگا۔ بولٹن نے مزید کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ ممکن ہے کہ اسرائیل اگلے ہفتے تک فی الواقع حملہ کرے گا۔

اسرائیل، ایران کے جوہری پروگرام کے بدترین ناقدوں میں سے ایک ہےاور اُسے اِس بات کا خوف ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار کے حصول کا نتیجہ یہودی ریاست کی تباہی پر منتج ہوسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG