رسائی کے لنکس

کوگلمن اور دیگر تجزیہ کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان میں داعش کا گروپ، جو ابھی نسبتاً چھوٹی سطح کا ہے، متعدد علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں حکومت قانونی عمل داری قائم کرنے کی جستجو کر رہی ہے، جن میں کشیدگی کا شکار صوبہ بلوچستان بھی شامل ہے

دہشت گردی کے متعدد واقعات کے بعد، پاکستان داعش سے منسلک شدت پسندوں کے خلاف نبردآزما ہے؛ جب کہ، اس سے قبل یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ داعش ملک میں قدم نہیں جما پائی۔

مائیکل کوگلمن واشنگٹن میں قائم 'ولسن سینٹر' میں جنوبی ایشیا کے معاون سربراہ اور سینئر 'ایسو سی ایٹ' ہیں۔ اُنھوں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ ''پہلے کی طرح اب پاکستان داعش کی موجودگی سے انکار نہیں کرتا''۔

وہ اور دیگر تجزیہ کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان میں داعش کا گروپ، جو ابھی نسبتاً چھوٹی سطح کا ہے، متعدد علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں حکومت قانونی عمل داری قائم کرنے کی جستجو کر رہی ہے، جن میں کشیدگی کا شکار صوبہ بلوچستان بھی شامل ہے۔

اِس ماہ کے اوائل میں، اہل کاروں نے دعویٰ کیا کہ ایک فوجی کارروائی کے دوران جنوب مغربی صوبے میں داعش کے ایک مضبوط ٹھکانے کو تباہ کیا گیا، جس میں 12 ''خطرناک دہشت گرد'' شامل تھے۔

یہ کارروائی اُس وقت کی گئی جب صوبے کے دارالحکومت، کوئٹہ میں داعش کے کارندوں نے ایک چینی جوڑے کو اغوا کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔

مئی میں، بلوچستان میں ایک نامور سیاست داں کے قافلے پر خودکش بم حملہ ہوا جس میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے۔

داعش نےحملے کی ذمہ داری قبول کی۔

غربت

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو غربت کا شکار ہے، جہاں کے مایوسی میں گھرے لوگ شدت پسندی کی جانب رخ کرتے ہیں۔

حکمراں، پاکستان مسلم لیگ ن کے نامور رُکن اور قانون ساز، عبد القیوم نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ ''داعش عالمی سطح پر نمودار ہونے والی صورت حال ہے، جو ایک نظرئے کا نام ہے، اور کوئی بھی اس نظرئے سے متاثر ہوسکتا ہے''۔

بقول اُن کے، ''لیکن، سلامتی کو درپیش خطرات کےباوجود فرنٹیئر کور بلوچستان اور پاکستان فوج ایک قابلِ تعریف کام کر رہے ہیں''۔

لیکن، تجزیہ کار کہتے ہیں چونکہ خطے میں متعدد گروپ سرگرم ہیں، یہ ایک مشکل کام ہے۔

بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے وزیر، سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ''لشکر جھنگوی جیسے دہشت گرد اتحادیوں کے ذریعے، داعش خطے میں پیر جما رہا ہے۔ لیکن، اِن گروپوں کو داعش کہنا غلط ہوگا''۔

پاکستان نے کہا ہے کہ لشکر جھنگوی (ایل اِی جے)، جو پنجاب میں قائم ایک شدت پسند فرقہ وارانہ گروپ ہے، جس کے افغانستان کے طالبان اور القاعدہ سے مراسم ہیں، اور وہ حال ہی میں داعش کے ساتھ منسلک ہوا ہے، اُسی نےاِس خلا کو پُر کیا ہے جو ابھی تک اُس کا گڑھ تھا، جہاں حال ہی میں داعش نے پیر جمائے ہیں، جسے گذشتہ ماہ کے اوائل کے دوران ایک فوجی کارروائی میں تباہ کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ لشکر جھنگوی نے داعش سے وفاداری کا حلف لیا ہے تاکہ، گروپ کو پاکستان میں مضبوط کیا جاسکے، اور وہ اُس کی جانب سے دہشت گرد حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کوگلمن نے کہا ہے کہ ''پاکستان میں ایسا ماحول ہے جس میں دہشت گرد گروہوں کی ہمیت افزائی ہوتی ہے اور وہ پنپنے ہیں، چونکہ دیگر دہشت گرد گروپ موجود ہیں اور اُن کی تنصیبات انتہا پسندی کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں''۔

داعش کے اثر و رسوخ صرف بلوچستان تک محدود نہیں ہے۔

بڑھتے ہوئے خدشات

سنہ 2016میں پاکستان کے انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ، آفتاب سلطان نے متنبہ کیا تھا کہ داعش ملک میں زور پکڑ رہی ہے، اور یہ کہ کالعدم مقامی مذہبی گروپوں سے وابستہ سینکڑوں پاکستانی داعش کے حلقوں میں شمولیت کے لیے شام جا چکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے، پاکستان میں داعش کے کم از کم دو مبینہ لیڈر، جن میں سے ایک خبر پختونخوا کا سربراہ بتایا جاتا ہے، پشاور میں سکیورٹی افواج کے ساتھ گولیوں کے تبادلے کے دوران ہلاک ہوئے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ وہ عید پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے۔

مئی میں، پاکستانی حکام نے کراچی سے داعش کے پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا، جو شہر میں دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ سازی میں مصروف تھے۔ گذشتہ سال، پاکستانی اہل کاروں نے کراچی میں خواتین کے ایک گروپ کا پتا لگایا تھا جو داعش کے لیے رقوم اکٹھی کر رہا تھا۔

حالیہ برسوں کے دوران پاکستان میں مارے گئے چھاپوں کے دوران داعش کے بیسیوں مشتبہ شدت پسندوں اور کارندوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے متعدد شام میں تربیت لے کر پاکستان واپس آئے تھے۔

اپریل میں، لاہور سے ایک نوجوان خاتون، نورین لغاری کو گرفتار کیا گیا، جو ایسٹر کے موقع پر دہشت گردی کی منصوبہ سازی کر رہی تھیں، جو اس سے قبل داعش سے تربیت لینے کے لیے شام جا چکی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG