رسائی کے لنکس

logo-print

داعش اور طالبان کی لڑائی کے باعث سینکڑوں افغان بے گھر


افغان طالبان ننگرہار میں ایک گاڑی میں سوار ہیں۔ جون 2018

افغان حکام نے وی او اے کو بتایا ہے کہ مشرقی صوبے کنڑ میں داعش اور طالبان کے جنگجوں کے درمیان گزشتہ تین دنوں سے شدید لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں خاندانوں نے اپنے گھر چھوڑ دیے ہیں۔

بے گھر ہونے والے خاندان جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، وہ انتہائی نامناسب حالات میں چپا ڈیرہ کے علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بے گھر خاندان اپنے رشتہ داروں کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں لیکن بعض کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔

افغانستان، صوبہ کنڑ
افغانستان، صوبہ کنڑ

​“ہم نے کھلے آسمان تلے بیٹھے لوگوں کو کچھ امداد دینے کی تیاری کی ہے جو جلد ان تک پہنچ جائے گی۔” یہ کہنا تھا عبدالغنی موسمیم کا جو کنڑ کے گورنر کے ترجمان ہیں۔

عام لوگوں نے وی اوا ے کو بتایا کہ بے گھر خاندانوں کو شدید گرمی اور مشکل حالات کا سامنا ہے۔

لڑائی

افغان حکومت اور دیگر لڑاکا گروپس کے درمیان جاری لڑائی کے باعث گزشتہ دس مہینوں میں ہمسایہ صوبے ننگرہار میں تقریباً چار سو خاندان پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں۔ مقامی حکام نے وی او اے کو بتایا ہے کہ ننگرہار میں لڑائی کے باعث تین سالوں میں چودہ ہزار خاندان اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے جبکہ ان میں سے صرف آٹھ ہزار خاندان واپس آئے۔

افغانستان کے مشرقی علاقوں میں طالبان اور داعش کے درمیان لڑائی جاری رہتی ہے، خاص طور پر ننگرہار میں جو داعش خراسان کا گڑھ ہے، جہاں اس تنظیم نے سن دو ہزار پندرہ میں قدم جمائے۔ اس دہشت گرد تنظیم نے یہاں سے مشرق اور شمال کے ہمسایہ صوبوں میں اپنی شاخیں قائم کی۔

کنڑ پولیس کے سربراہ فرید دہقان نے وی او اے کو بتایا کہ داعش اور طالبان جنگجووں نے اونچے علاقوں میں ایک دوسرے کے خلاف مورچے لیے ہوئے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔

دہقان نے کہا کہ “ دونوں اطراف کو جانی نقصان ہوا ہے۔ لیکن زرائع اطلاعات کی عدم موجودگی میں نقصان کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔

حکام کے مطابق اس لڑائی میں اب تک عام شہریوں کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

حکام نے بتایا کہ وہ زمینی حقائق پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں اطراف کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔

افغان دفاعی حکام نے وی او اے کو بتایا کہ افغان فورسز نے کنڑ میں آپریشز کیے جس میں داعش اور طالبان جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے۔

افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان محمد رادمنیش نے وی او اے کو بتایا کہ “ہم نے اس علاقے میں منگل کو داعش کے جنگجوں کو نشانہ بنایا اور چھے کو ہلاک کیا۔ ہم اپنے لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم ان (داعش اور طالبان)سے لاحق خطرے کو ختم کریں گے۔”

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG