رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی پائلٹ کی رہائی کے خلاف دائر درخواست خارج


اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کی تحویل میں بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے خلاف دائر درخواست نا قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی ہے۔

درخواست گزار بیرسٹر شعیب رزاق نے عدالت سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کرنے سے روکنے اور اس پر دہشت گردی کا مقدمہ چلانے کی درخواست کی تھی۔

درخواست میں وفاق، وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکریٹری، سیکریٹری وزارتِ دفاع، سیکریٹری وزارتِ داخلہ، سیکریٹری وزارتِ خارجہ اور بھارتی پائلٹ کو فریق بنایا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جمعے کو درخواست کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس فیصلے سے درخواست گزار کے کون سے حقوق متاثر ہوئے ہیں؟ انہوں نے استفسار کیا کہ بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟

درخواست گزار بیرسٹر شعیب رزاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نے پارلیمان میں بحث کرائے بغیر بھارتی پائلٹ کی رہائی کا اعلان کیا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ قانون کے مطابق بھارتی پائلٹ کو سزا دی جانے چاہیے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ وزیرِ اعظم نے جب بھارتی پائلٹ کی رہائی کا اعلان کیا تو پارلیمان میں تمام جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔ کسی نے بھی عمران خان کے اعلان پر اعتراض نہیں کیا۔

عدالت نے کہا کہ یہ ایک پالیسی معاملہ ہے اور ہمیں پارلیمنٹ کا احترام کرنا چاہیے۔ کیا ہم منتخب نمائندگان کی حب الوطنی پر شک کر سکتے ہیں؟ جب تمام ارکانِ پارلیمان ایک بات پر متفق ہیں تو کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے 2014ء کے فیصلے میں واضح کر دیا تھا کہ خارجہ پالیسی کے معاملات میں عدالتوں کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

بعد ازاں عدالت نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

پاکستان کی فوج نے 27 فروری کو لائن آف کنٹرول کے قریب فضائی کارروائی کے دوران دو بھارتی طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جن میں سے ایک طیارہ پاکستان کی حدود میں گرا تھا۔

پاکستانی حکام نے اپنی حدود میں گرنے والے بھارتی طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو حراست میں لے لیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے جمعرات کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں بھارت کے ساتھ کشیدگی دور کرنے کے لیے خیر سگالی کے طور پر ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستانی حکام کے مطابق ابھی نندن کو جمعے کو واہگہ کے راستے بھارتی حکام کے حوالے کردیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG