رسائی کے لنکس

"داعش افغان صوبے نورستان میں قدم جمارہی ہے"


افغان فورسز ایک غار کی جانچ پڑتال کررہے ہیں جس پر جہاں داعش کے جنگجوؤں کی موجودگی کے شبے میں دنیا کا سب سے طاقتور غیر جوہری بم گریا گیا تھا۔ اپریل 2017

أفغانستان کے ایک دور افتادہ صوبے نورستان میں داعش کی ایک نئی محفوظ پناہ گاہ صرف اسے منظم ہونے اور اپنی قوت یک جا کرنے میں ہی مدد نہیں دے گی بلکہ نئے علاقوں کی جانب اس کی پیش قدمی کی رہ بھی ہموار کرے گی۔

افغانستان کے مشرقی صوبے نورستان کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروپ داعش صوبے کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں بھرتیاں کرکے وہاں اپنے لیے نئے محفوظ ٹھکانے بنا رہا ہے۔

نورستان سے افغان اولسی جرگہ یا ایوان زیریں کے ایک نمائندے مولوی احمد اللہ موحد نے ریڈیو فری افغانستان کو بتایا کہ انتہائی قدامت پرست عسکری گروپ اس وقت نورستان کے آٹھ میں سے پانچ اضلاع میں متحرک ہے۔

الپائن جنگلات کی وادی کے پانچ اضلاع منڈول، دوآب، نور گرام، ویگال اور واما عسکریت پسندوں کو گوریلا جنگ کے لیے ایک آئیڈئل علاقہ فراہم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی سرگرمیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ داعش کے عسکریت پسند اس وقت حقیقی طور رپر وہاں حکومت کررہے ہیں ، کیونکہ یہ علاقے حکومتی اور طالبان کے کنٹرول سے باہر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش کے عسکریت پسند دوآب اور منڈول کے اضلاع میں زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں جس کے بعد وہ وہاں سے کچھ قریبی صوبوں پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

نورستان صوبائی کونسل کے سربراہ سعد اللہ کہتے ہیں کہ اب داعش کا غیر قانونی ایف ایم ریڈیو اسٹیشن نورگرام ضلع سے اپنی نشریات چلا رہا ہے اور ان کی توجہ لوگوں کو بھرتی کرنے پر مرکوز ہے۔

اس صورت حال کا نمایاں رد عمل بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں أفغان اور امریکی عہدے دار کئی بار یہ دعوے کر چکے ہیں کہ مشرق میں واقع صوبے جلال آباد میں، جو نورستان سے تقریباً ایک سو کلومیٹر جنوب میں واقع ہے، داعش کے ٹھکانوں میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں سخت فوجی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر داعش کے لیڈر اور جنگجو ہلاک کر دیے گئے تھے۔

أفغانستان کے ایک دور افتادہ صوبے میں داعش کی ایک نئی محفوظ پناہ گاہ صرف اسے منظم ہونے اور اپنی قوت یک جا کرنے میں ہی مدد نہیں دے گی بلکہ نئے علاقوں کی جانب اس کی پیش قدمی کی رہ بھی ہموار کرے گی۔

کابل میں مقیم ایک دفاعی تجزیہ کار جاوید کوہستانی کا کہنا ہے کہ نورستان میں داعش کا ایک مضبوط گڑھ اس کٹڑ قدامت پرست گروپ کو وسطی اور شمال مشرقی أفغانستان میں واقع ہمسایہ صوبوں میں اپنے پاؤں پھیلانے میں مدد دے گا اور ایک بڑے سیکیورٹی خطرے کے طور پر ابھرے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر نورستان واقعتا داعش کا مرکز بن جاتا ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ وہ کئی ہمسایہ صوبوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے گا بلکہ اندرونی اختلافات اور انسداد دہشت گردی کی ناقص حکمت عملی حکومت کو علاقے میں داعش کی سرگرمیاں روکنے سے باز نہیں رکھ سکے گی۔

نورستان پاکستان کے علاقے چترال اور مشرق میں أفغان صوبوں بدخشاں، پنچ شیر، کنٹڑاور لغمان صوبوں کے ساتھ واقع ہے۔ اس علاقے کی سلافی سرگرمیوں کی لمبی تاریخ ہے اور یہ خطہ کئی عسکری گروپ کا گڑھ رہا ہے۔

یہ علاقہ 1980 کے عشرے میں أفغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے دوران زیادہ تر آزاد رہا ہے اور حتی کہ ایک مقامی دینی راہنما مولوی أفضل نے وہاں اپنی ایک چھوٹی اسلامی ریاست قائم کر لی تھی۔

سن 2001 کے بعد یہ علاقہ بین الاقوامی فورسز کے لیے سب سے خطرناک علاقہ میں سے ایک بن گیا تھا ۔ نورستان کے ضلع ویگال میں ایک امریکی فوجی چوکی پر سن 2008 میں ایک بڑی لڑائی ہوئی تھی۔

پچھلے سال أفغان حکام نے نورستان کے معتبرین سے کہا تھا کہ وہ داعش کو علاقے میں اپنے قدم جمانے سے باز رکھنے کے لیے حکومت کی مدد کریں۔

دسمبر میں ایک مقامی عہدے دار نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو نورستان میں داعش کی موجودگی کے متعلق بتایا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ مقامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور نوجوانوں کو اپنے گروپ میں بھرتی کررہے ہیں۔ انہوں نے ننگرہارمیں بھی اپنے قدم جمانے کے لیے یہی حربہ استعمال کیا تھا۔

داعش سے منسلک ایک گروپ جو خود کو خراسان صوبے سے منسوب کرتا ہے سن 2015 کے شروع میں قائم ہو ا تھا ۔ اس کے زیادہ تر لیڈر اور جنگجو پاکستانی طالبان ہیں ۔ اس گروپ نے اس سال کے دوران کئی پہاڑی اضلاع پر قبضہ کیا تھا۔

أفغان اور امریکی عہدے دار اب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ داعش کا گروپ اب چند سو جنگجوؤں تک سمٹ چکا ہے۔ جب کہ شروع میں ان کے جنگجوؤں کی تعداد تین ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے زیادہ تر اضلاع میں سے داعش کی موجودگی ختم کر دی ہے۔

پچھلے مہینے امریکی اور أفغان فورسز نے داعش کے 750 سے زیادہ جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق گروپ کا سربراہ عبدالحسیب بھی مئی میں ننگرہار کی لڑائیوں کے دوران مارا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG