رسائی کے لنکس

عرب سیاستدان کی حماس سے کچھ  قیدیوں کی رہائی کی اپیل


اسرائیلی پولیس اہلکار اور ریسکیو اہلکار 9 اکتوبر 2023 کو مقبوضہ مغربی کنارے کے کے ایک قصبے بیطار الیت میں غزہ سے راکٹ حملے کے بعد جائزہ لیتے ہوئے۔
اسرائیلی پولیس اہلکار اور ریسکیو اہلکار 9 اکتوبر 2023 کو مقبوضہ مغربی کنارے کے کے ایک قصبے بیطار الیت میں غزہ سے راکٹ حملے کے بعد جائزہ لیتے ہوئے۔

اسرائیل میں ایک عرب اسلام پسند سیاستدان نے منگل کو حماس سے اپیل کی ہے کہ وہ مذہبی بنیاد پر ان میں سے کچھ اسرائیل یرغمالوں کو رہا کر دے جنہیں اختتام ہفتہ غزہ میں قائم فلسطینی دھڑے کے سرحد پار حملے کے دوران پکڑا گیا تھا۔

یونائیٹڈ عرب لسٹ پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسلامی اقدار ہمیں خواتین ، بچوں اور بوڑھوں کو قیدکرنے کی اجازت نہیں دیتیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی رہائی ایک انسانی ہمدردی کا اقدام ہوگا۔

حماس نے جو ایک اسلام پرست گروپ ہے کہا ہے اس نے غزہ کی پٹی میں درجنوں افراد کو حراست میں لیا ہے اور اس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل میں قید ہزاروں فلسطینیوں کے بدلے انہیں واپس کر سکتا ہے ۔

حماس کے اتحادی اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ اس کے پاس30 سے زیادہ قیدی ہیں۔

اقوام متحدہ کے لیے اسرائیل کے سفیر Gilad Erdan نے سی این این کو بتایا کہ غزہ میں 100 اور 50 کے درمیان یرغمال موجود ہیں ۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل پر حملے بند کرنے اور یرغمال بنائے گئے تمام اسرائیلی شہریوں کو فوری طور پر رہا کرنےکی اپیل کی ہے۔

انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی فوج کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق کرے۔

غزہ کی عسکری تنظیم حماس نے ہفتے کی صبح اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر فضائی، زمین اور سمندری راستوں سے بیک وقت حملہ کیا تھا۔ اس غیر متوقع اور اچانک حملے میں اسرائیل کے کئی شہر حماس کا نشانہ بنے۔ اس دوران حماس کے جنگجو کئی اسرائیلی شہریوں اور غیر ملکیوں کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

یرغمالوں کے رشتے داروں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے مطابق ان میں معمر خواتین اور چھوٹے بچوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوجی بھی شامل ہیں۔

( اس خبر کا کچھ مواد رائٹرز سے لیا گیا ہے)

فورم

XS
SM
MD
LG