رسائی کے لنکس

داعش نے عراق حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی


تاجی میں فیٹکری حملے کے بعد گیس ذخیرہ کرنے والے تین کنٹینروں سے دھواں اڑ رہا ہے۔ فائل فوٹو
تاجی میں فیٹکری حملے کے بعد گیس ذخیرہ کرنے والے تین کنٹینروں سے دھواں اڑ رہا ہے۔ فائل فوٹو

حالیہ دنوں میں اس انتہا پسند گروپ کی طرف سے حملوں میں تیزی آئی ہے اور بدھ سے بغداد اور دیگر جگہوں پر ہونے والے حملوں میں 140 سے زائد افراد مار جا چکے ہیں۔

داعش نے اتوار کو عراق میں ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں کم از کم 29 افراد مارے گئے جبکہ 70 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سب سے بڑا حملہ جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی بغداد کے قریب قدرتی گیس کے سرکاری پلانٹ پر کیا گیا جس میں کم از کم 14 افرا مارے گئے تھے اور 27 زخمی ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق اتوار کی صبح کو بغداد کے شمال میں واقع تاجی قصبے میں فیکٹری کے مرکزی دروازے پر ایک کار بم سے حملہ کیا گیا جس کے بعد ایک دوسری گاڑی میں سوار چھ حملہ آور جن کے جسم سے بارودی مواد بندھا ہوا تھا فیکٹری میں داخل ہو گئے جن کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ شروع ہو گئی۔

بغداد آپریشنز کمانڈ کے مطابق ایک گھنٹے تک فائرنگ کے تبادلے کے بعد سکیورٹی فورسز ان افراد پر قابو پانے میں کامیاب ہوئیں۔ تاہم اس دوران انہوں نے فیکٹری میں گیس ذخیرہ کرنے والے تین کنٹینروں کو آگ لگا دی۔

امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' نے داعش سے وابستہ نیوز ایجنسی ’’آماق‘‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ داعش کے جنگجوؤں نے کیا تھا۔

پولیس کے مطابق بغداد میں ہی کاروباری علاقوں پر کیے گئے تین دیگر حملوں میں کم از کم آٹھ شہری جان سے گئے اور 28 دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

اتوار کو ہی بغداد سے 30 کلومیٹر شمال میں واقع لطیفیہ شہر پر ہونے والے کار بم حملے میں دو فوجیوں سمیت سات افراد مارے گئے جبکہ 18 دیگر زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں چار فوجی بھی شامل تھے۔

حالیہ دنوں میں اس انتہا پسند گروپ کی طرف سے حملوں میں تیزی آئی ہے اور بدھ سے بغداد اور دیگر جگہوں پر ہونے والے حملوں میں 140 سے زائد افراد مار جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG