رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین فلسطینی ہلاک


ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک معذور فلسطینی غلیل نما آلے سے اسرائیلی فوجیوں پر کنکر بھینک رہا ہے۔

اسرائیلی فوجیوں نے جمعے کے روز غزہ کی سرحد پر مختلف واقعات میں ایک بارہ سالہ لڑکے سمیت تین فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

حماس کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ 12 سالہ لڑکے شادی عبدل آل کو غزہ کے شمالی حصے میں گولی ماری گئی۔

جب کہ 21 سالہ حانی افنا اور محمد شکور کو جنوبی غزہ اور البرج کے ساحلی علاقوں میں دو الگ الگ واقعات میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

حماس کی وزارت صحت کے بیان کے مطابق سرحد کے ساتھ مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کے احتجاج کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے کم ازکم 50 افراد زخمی بھی ہوئے۔

غزہ میں سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ غزہ شہر کے قریب حماس کی ایک چوکی پر ایک اسرائیلی ٹینک نے چڑھائی کر دی۔

اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کے مختلف حصوں میں ہونے والے ہنگاموں میں اندازاً 13 ہزار افراد شامل تھے۔ ان میں سے کئی لوگ ٹائر جلا رہے تھے اور کئی آتش گیر مادہ پھینک رہے تھے۔

بڑے پیمانے پر احتجاج اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کا یہ نیا سلسلہ 30 مارچ سے شروع ہوا تھا اور تب سے ہر جمعے کو مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

اس عرصے کے دوران اسرائیلی فائرنگ سے کم ازکم 179 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ حماس کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ 2008 سے اسرائیل اور حماد کے درمیاں تین جنگیں ہو چکی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 لاکھ آبادی کا محاصرہ ایک طرح سے اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمین نے کہا ہے کہ سرحدی راستہ کھولنے کے لیے امن و سکون شرط ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG