رسائی کے لنکس

بھارت میں کرونا وبا کی دوسری لہر 'سونامی' ہے: دہلی ہائی کورٹ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت میں یومیہ کرونا کیسز میں ریکارڈ اضافہ جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 46 ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ وبا کے سبب دو ہزار 624 اموات ہوئیں۔

بھارت میں ایک روز قبل تین لاکھ 32 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے تھے۔

نئی دہلی کے جے پور گولڈن اسپتال میں 25 مریض آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ سینئر کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ان اموات پر اظہارِ تعزیت کیا ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ہفتے کو ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی اور صورتِ حال کا جائزہ لیا اور متعدد ریاستوں کی طرف سے آکسیجن کی کمی کی شکایات سامنے آنے پر وزیرِ اعظم نے رسد تیز کرنے کی ہدایت کی۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے کرونا ویکسین، میڈیکل گریڈ آکسیجن اور اس سے متعلق آلات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی ہے۔

بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آکسیجن اور میڈیکل سپلائی تیز کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ گزشتہ برس کی مانند اس بار بھی کرونا انفیکشن کو دیہی علاقوں تک پہنچنے سے روکنا حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔

اس سے قبل جمعے کے روز ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیرِ اعظم نے ان گیارہ ریاستوں کو جہاں کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

انہوں نے مختلف ریاستوں سے ملنے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے تمام وزرائے اعلیٰ سے کہا کہ وہ آکسیجن اور ادویات کی بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کو روکیں۔

وزیرِ اعظم نے آکسیجن پیدا کرنے والی کمپنیوں سے علیحدہ میٹنگ بھی کی جس میں مکیش امبانی اور ساجن جندل جیسے صنعت کار بھی شامل تھے۔

دارالحکومت دہلی میں آکسیجن کی قلت اب بھی برقرار ہے۔

بھارتی اخبار 'انڈین ایکسپریس' نے ایک تصویر شائع کی ہے جس میں شمالی دہلی کے گرو تیغ بہادر اسپتال کے باہر ایک آکسیجن سلینڈر سے تین مریضوں کو ماسک لگائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

دہلی کے کئی اسپتالوں کی جانب سے بار بار مدد کی اپیلیں کی جا رہی ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ ان کے پاس چند گھنٹوں کے لیے آکسیجن بچی ہے۔

کئی اسپتالوں میں بالکل آخر وقت میں آکسیجن کے ٹرک پہنچ رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی جانیں بچ رہی ہیں۔

اسپتالوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم

دہلی ہائی کورٹ نے کرونا سے ہونے والی اموات کے پیشِ نظر نظم و نسق کی صورتِ حال بگڑنے کے اندیشے کے تحت اسپتالوں کی درخواست پر ان کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ جب لوگوں کے پیارے مر رہے ہوں تو وہ کیسے ردِ عمل کا اظہار کریں گے آپ نہیں جان سکتے؟

عدالت نے کرونا سے متعلق ایک معاملے پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی یا ریاستی حکومتوں یا مقامی انتظامیہ کا کوئی اہلکار آکسیجن کی سپلائی میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے پایا گیا تو وہ اسے چھوڑیں گے نہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل دہلی کے کئی اسپتالوں نے مریضوں کی جان بچانے کے لیے فوری مدد کی اپیل کی تھی۔

دہلی ہائی کورٹ نے کرونا کی دوسری لہر کو ‘سونامی’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی دوسری لہر اپنی انتہا پر نہیں پہنچی ہے۔ اس کے مئی کے وسط تک پہنچنے کا امکان ہے۔

عدالت نے یہ جاننا چاہا کہ مرکزی حکومت نے اس سے نمٹنے کے لیے کیا تیاریاں کی ہیں۔

دہلی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس سچائی سے غفلت نہیں برت سکتے کہ مرکزی حکومت نے دہلی حکومت سے آکسیجن کے بارے میں جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کیا گیا۔ اگر ریاست کو آکسیجن نہیں ملی تو کسی بھی وقت کوئی بھی بڑا حادثہ ہو سکتا ہے۔

دہلی حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ سب سے بڑا مسئلہ آکسیجن کی سپلائی کا ہے۔ اس پر مرکزی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ سپلائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ٹینکروں کی کمی اور ٹرانسپورٹیشن مسئلہ ہے۔

سنگاپور سے آکسیجن کے خصوصی ٹینک درآمد

دریں اثنا آکسیجن کی سپلائی کی غرض سے سنگا پور سے بذریعہ طیارہ چار کرایوجنک ٹینک منگوائے جا رہے ہیں۔

بھارت میں کرونا سے اموات، شمشان گھاٹوں میں رش

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد شمشان گھاٹ میں چتائیں جل رہی ہیں۔  
1/18 بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد شمشان گھاٹ میں چتائیں جل رہی ہیں۔  
مزید Show less
کرونا سے مرنے والے کو گھروں میں بھی زیادہ دیر تک نہیں رکھا جا سکتا اس لیے لوگ جلد از جلد آخری رسومات ادا کر دینا چاہتے ہیں۔ 
2/18 کرونا سے مرنے والے کو گھروں میں بھی زیادہ دیر تک نہیں رکھا جا سکتا اس لیے لوگ جلد از جلد آخری رسومات ادا کر دینا چاہتے ہیں۔ 
مزید Show less
کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافے کے باعث دہلی سمیت بھارت کی مختلف ریاستوں میں آکسیجن کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور اسپتالوں میں بستر دستیاب نہیں ہیں۔
3/18 کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافے کے باعث دہلی سمیت بھارت کی مختلف ریاستوں میں آکسیجن کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور اسپتالوں میں بستر دستیاب نہیں ہیں۔
مزید Show less
وبا سے ہونے والی اموات کے باعث اسپتالوں کے مردہ خانوں میں بھی گنجائش باقی نہیں رہی۔
4/18 وبا سے ہونے والی اموات کے باعث اسپتالوں کے مردہ خانوں میں بھی گنجائش باقی نہیں رہی۔
مزید Show less
 بستر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کئی مریض اسپتالوں کے باہر ہی دم توڑ چکے ہیں۔
5/18  بستر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کئی مریض اسپتالوں کے باہر ہی دم توڑ چکے ہیں۔
مزید Show less
ممبئی میں کرونا کی ایک مریض کو اسپتال میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ایمبولینس میں آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے۔
6/18 ممبئی میں کرونا کی ایک مریض کو اسپتال میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ایمبولینس میں آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے۔
مزید Show less
دہلی میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ایک شخص کے لواحقین حفاظتی لباس میں شمشان گھاٹ کے باہر موجود ہیں۔ 
7/18 دہلی میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ایک شخص کے لواحقین حفاظتی لباس میں شمشان گھاٹ کے باہر موجود ہیں۔ 
مزید Show less
قلت شدید ہونے کے باعث وزارتِ صحت نے اسپتالوں پر آکسیجن کی متعین مقدار استعمال کرنے یا راشننگ کے لیے زور دیا ہے۔
8/18 قلت شدید ہونے کے باعث وزارتِ صحت نے اسپتالوں پر آکسیجن کی متعین مقدار استعمال کرنے یا راشننگ کے لیے زور دیا ہے۔
مزید Show less
گزشتہ سال اکتوبر میں حکومت کے اعلان کردہ آکسیجن پلانٹس کے فعال ہونے سے متعلق بھی صورت حال واضح نہیں۔ 
9/18 گزشتہ سال اکتوبر میں حکومت کے اعلان کردہ آکسیجن پلانٹس کے فعال ہونے سے متعلق بھی صورت حال واضح نہیں۔ 
مزید Show less
کرونا وائرس سے یومیہ ریکارڈ اموات کی وجہ سے لواحقین کو آخری رسومات کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ الہ آباد میں لواحقین شمشان گھاٹ کے باہر سڑک پر میت رکھے اپنے نمبر کا انتظار کر رہے ہیں۔ 
10/18 کرونا وائرس سے یومیہ ریکارڈ اموات کی وجہ سے لواحقین کو آخری رسومات کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ الہ آباد میں لواحقین شمشان گھاٹ کے باہر سڑک پر میت رکھے اپنے نمبر کا انتظار کر رہے ہیں۔ 
مزید Show less
ہندو مذہب کے مطابق رات میں آخری رسوم کی ادائیگی ممنوع ہے لیکن کرونا سے بڑھتی اموات کے باعث دہلی کے سب سے بڑے مرگھٹ ’نگم بودھ گھاٹ‘ پر 24 گھنٹے چتائیں جلائی جا رہی ہیں۔
11/18 ہندو مذہب کے مطابق رات میں آخری رسوم کی ادائیگی ممنوع ہے لیکن کرونا سے بڑھتی اموات کے باعث دہلی کے سب سے بڑے مرگھٹ ’نگم بودھ گھاٹ‘ پر 24 گھنٹے چتائیں جلائی جا رہی ہیں۔
مزید Show less
بھارت کے ساحلی شہر ویرار کے ایک اسپتال میں آتش زدگی سے ہلاک ہونے والے مریض کی آخری رسومات ادا کی جارہی ہیں۔ اس حادثے میں کرونا وائرس کے 13 مریضوں کی ہلاکت ہوئی۔
12/18 بھارت کے ساحلی شہر ویرار کے ایک اسپتال میں آتش زدگی سے ہلاک ہونے والے مریض کی آخری رسومات ادا کی جارہی ہیں۔ اس حادثے میں کرونا وائرس کے 13 مریضوں کی ہلاکت ہوئی۔
مزید Show less
ویرار کے متاثرہ اسپتال کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے مطابق اسپتال کی دوسری منزل پر واقع انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں اچانک آگ بھڑکنے سے حادثہ پیش آیا۔ 
13/18 ویرار کے متاثرہ اسپتال کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے مطابق اسپتال کی دوسری منزل پر واقع انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں اچانک آگ بھڑکنے سے حادثہ پیش آیا۔ 
مزید Show less
بھارتی ریاست بنگال کے شہر ’سلی گری‘ میں ایک رضاکار شہری سے ماسک پہننے کی التجا کررہا ہے۔ 
14/18 بھارتی ریاست بنگال کے شہر ’سلی گری‘ میں ایک رضاکار شہری سے ماسک پہننے کی التجا کررہا ہے۔ 
مزید Show less
ماہرین کے مطابق کرونا کی روک تھام کے لیے گزشتہ سال کے برعکس اس بار عوامی ہجوم اور سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔ 
15/18 ماہرین کے مطابق کرونا کی روک تھام کے لیے گزشتہ سال کے برعکس اس بار عوامی ہجوم اور سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔ 
مزید Show less
کرونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ممبئی کے ایک ریلوے اسٹیشن کے باہر مسافروں کا ہجوم لگا ہوا ہے۔ 
16/18 کرونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ممبئی کے ایک ریلوے اسٹیشن کے باہر مسافروں کا ہجوم لگا ہوا ہے۔ 
مزید Show less
جنوبی بھارت کے شہر چنئی میں سائیکل سوار رضا کار کرونا وائرس سے بجاؤ کی آگہی فراہم کرنے کے لیے نکالی گئی ریلی میں شریک ہیں۔
17/18 جنوبی بھارت کے شہر چنئی میں سائیکل سوار رضا کار کرونا وائرس سے بجاؤ کی آگہی فراہم کرنے کے لیے نکالی گئی ریلی میں شریک ہیں۔
مزید Show less
<p dir="RTL">بھارت میں یومیہ لاکھوں ویکسین لگائی جا رہی ہیں لیکن اس کے باجود مجموعی آبادی کے دس فی صد کو بھی ویکسین نہیں لگائی جا سکی ہے۔</p>
18/18

بھارت میں یومیہ لاکھوں ویکسین لگائی جا رہی ہیں لیکن اس کے باجود مجموعی آبادی کے دس فی صد کو بھی ویکسین نہیں لگائی جا سکی ہے۔

مزید Show less
Previous slide
Next slide

وزارتِ داخلہ کے مطابق ایئر انڈیا کا ایک طیارہ ہفتے کی صبح دہلی کے قریب ہنڈن ایئر بیس سے روانہ ہوا جو شام تک ٹینک لے کر مغربی بنگال کے پناگڑھ ایئر بیس پر لینڈ کر جائے گا۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ انڈین ریلوے نے مدھیہ پردیش کے بھوپال میں 20 ڈبوں کو عارضی کووڈ سینٹر میں تبدیل کیا ہے اور اس میں 320 بیڈ لگائے گئے ہیں۔ یہ عارضی سینٹر اتوار سے کام کرنا شروع کر دیں گے۔

یاد رہے کہ انڈین ریلوے نے ریاستی حکومتوں کی مدد کے لیے ٹرین کے 4002 ڈبوں کو کووڈ کیئر آئسولیشن مراکز میں تبدیل کیا ہے۔

ریلوے کی جانب سے کلیدی راستوں سے لیکویڈ میڈیکل آکسیجن (ایل ایم او) اور آکسیجن سلینڈر ٹرانسپورٹ کیے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کو یقین دلایا تھا کہ بھوپال کے آرمی اسپتال کو عام کرونا مریضوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

اترپردیش، آندھرا پردیش اور دہلی نے آکسیجن کے ٹرانسپورٹیشن کے لیے انڈین ریلویز سے مدد کی اپیل کی ہے۔

انڈین ریلوے نے ضرورت مند ریاستوں کو جلد از جلد آکسیجن پہنچانے کے لیے ”آکسیجن ایکسپریس سروس“ شروع کی ہے۔

مہاراشٹرا نے پہلے ہی اپیل کی تھی کہ ویزاگ سے آکسیجن ریلوے کے توسط سے منگوائی جائے۔ ایک ٹرین آکسیجن لے کر ریاست میں پہنچنے والی ہے۔

اترپردیش نے بوکارو اسٹیل پلانٹ او رجام نگر ریفائنری گجرات سے اور دہلی نے راورکیلا اسٹیل پلانٹ اڑیسہ سے آکسیجن کے ٹرانسپورٹیشن کی درخواست کی ہے۔

بھارت میں ریکارڈ کووڈ کیسز، معاملہ کیا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:34 0:00

ریلوے بورڈ کے چیئرمین سنیت شرما کے مطابق انہوں نے ان ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ ٹینکر تیار رکھیں، ان کے انجن اور ڈرائیور تیار ہیں۔ جلد ہی ہم کام شروع کر دیں گے۔

دریں اثنا پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس مشکل گھڑی میں ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ہے اور کرونا مریضوں کے جلد صحت یاب ہونے کی تمنا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام لوگوں کو انسانیت کو درپیش اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر لڑنا ہوگا۔

اس سے قبل ‘ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان’ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے نام ایک خط میں کرونا سے نمٹنے میں اپنے تعاون کی پیشکش کی ہے۔

ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کی مدد کے لیے 50 ایمبولینسز اور سپورٹنگ عملہ بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔

بھارت کی جانب سے تاحال اس پیش کش پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

This item is part of
​
XS
SM
MD
LG