رسائی کے لنکس

logo-print

یروشلیم: یہودی عبادت گاہ پر حملے میں چار افراد ہلاک


اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے حملے کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

یروشلیم میں دو مشتبہ فلسطینیوں نے یہودیوں کی ایک عبادت گاہ پر حملہ کر کے چار افراد کو ہلاک کر دیا جب کہ جوابی فائرنگ میں حملہ آور بھی مارے گئے۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق منگل کی صبح دو فلسطینیوں نے عبادت گاہ میں گھس کر وہاں موجود لوگوں پر کلہاڑیوں اور چاقوؤں سے وار کیے جس سے چار افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

پولیس کے ترجمان مکی روزنفلڈ کا کہنا تھا کہ پولیس علاقے میں کسی اور مشتبہ حملہ آور کی تلاش میں مصروف ہے۔

عبادت گاہ میں موجود ایک شخص یوسی نے اسرائیلی ٹی وی کو بتایا کہ "میں نے حملے سے بچنے کی کوشش کی، چاقو تھامے شخص اور میرے درمیان ایک میز اور کرسی تھی۔۔۔میری چادر وہاں پھنس گئی جسے میں وہیں چھوڑ کر بھاگ نکلا۔"

حکام کے مطابق یہ حملہ آور بظاہر مشرقی یروشلیم سے تعلق رکھتے تھے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے حملے کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ حملہ فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کی جانب سے ’اشتعال انگیزی‘ کا نتیجہ ہے جسے اُن کے بقول دنیا نے نظر انداز کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس حملے کا جواب دیا جائے گا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک بیان میں اس حملے کی مذمت کی۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا۔

اُنھوں نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ خالصتاً دہشت گردی کا واقع ہے اور فلسطینی رہنماؤں سے کہا کہ اس وہ اس حملے کی مذمت کریں۔

حالیہ دنوں میں یروشلیم میں تشدد کے واقعات کے باعث حالات خاصے کشیدہ رہے اور یہاں مسجد اقصیٰ اور ایک اور مقدس مقام تک لوگوں کی رسائی پر بھی حکام نے پابندی عائد کیے رکھی تھی۔

XS
SM
MD
LG