رسائی کے لنکس

افغانستان کے معاملے پر امریکہ، روس، چین اور پاکستان کے نمائندوں کا دوحہ میں اجلاس


دوحہ میں ٹرائیکا کا اجلاس۔

قطر کے دارلحکومت دوحہ میں امریکہ، روس، چین اور پاکستان کے نمائندوں نے ایک اہم اجلاس میں شرکت کی ہے، جس کے لئے امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں "ایکسٹینڈڈ ٹرائیکا" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ افغانستان میں امن کے حصول کے لیے ہونے والے اس اہم اجلاس میں اعادہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے معاملے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، سوائے اس کے کہ مذاکرات کی مدد سے دیرپا اور منصفانہ امن تلاش کیا جائے۔

جمعے کی شام واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے دفتر سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دوحہ میں جمعے کے روز بین الافغان مذاکرات کی موجودہ صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں امریکہ، روس، چین اور پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وسیع تر ٹرائیکا کے اس اجلاس میں اسلامی جمہوریہ افغانستان اور طالبان کے نمائندے اور ساتھ ہی میزبان قطر کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

بیان کے مطابق، اجلاس میں بین الافغان مذاکرات کے طریقہ کار پر غور کیا گیا، تاکہ متعلقہ فریق مذاکرات کی مدد سے ایک مستقل اور مربوط جنگ بندی پر رضامند ہو جائیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ہم افغان عوام کی جانب سے دیرپا اور منصفانہ امن اور لڑائی کے خاتمے کی رائے عامہ کی خواہش اور ملک گیر مطالبے کو تسلیم کرتے ہیں''۔

بیان کے مطابق، '' اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے؛ جب کہ افغان قیادت اور افغان سرپرستی والے پر امن عمل کی پاسداری کے نتیجے میں ہی مذاکرات کی مدد سے سیاسی حل سامنے آ سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کا حصول ممکن ہوگا''۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں امریکہ اور نیٹو کی جانب سے 14 اپریل کے اعلان پر توجہ مبذول کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ یکم مئی 2021ء سے افغانستان سے ذمہ دارانہ طور پر فوجی انخلا کا آغاز ہوجائے گا جو کام 11 ستمبر، 2021ء کو مکمل ہوگا۔

شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ غیر ملکی افواج کے انخلا سے رفتہ رفتہ افغانستان کی صورت حال معمول پر آئے گی۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فوجی انخلا کے دوران امن کی کوششوں میں خلل نہیں آنا چاہیے، افغانستان میں کسی قسم کی لڑائی یا جھگڑا نہیں ہونا چاہیے، اور بین الاقوامی فوج کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

افغان تنازعے میں ملوث تمام فریقین سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں تشدد کی کارروائیوں کی سطح میں کمی لائیں اور یہ کہ طالبان موسم بہار میں کسی جارحانہ کارروائی سے گریز کریں۔

اجلاس میں افغانستان میں جان بوجھ کر شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مشترکہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ طالبان انسداد دہشت گردی کے عہد پر پورا اتریں گے، جس میں دہشت گرد گروپوں اور افراد کو افغان سرزمین کے استعمال سے روکنا بھی شامل ہے تاکہ کسی دوسرے ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ ساتھ ہی، بیان میں اس توقع کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر افغان حکومت بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

بیان میں اسلامی جمہوریہ کی حکومت اور قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے لیے وہ طالبان ساتھیوں کے ساتھ صدق دل سے بات چیت کریں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ہم افغانستان میں کسی ایسی حکومت کے قیام کی حمایت نہیں کریں گے، جسے زور بازو سے تشکیل دیا جائے۔ یہ بات 18 مارچ، 2021ء کے مشترکہ بیان کا ایک تسلسل ہے''۔ ٹرائیکا کا پچھلا اجلاس ماسکو میں منعقد ہوا تھا۔

بیان میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ سفارتی اہلکاروں اور ان کی املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا، جب کہ کابل میں کسی حملے یا غیر ملکی سفارتی اہل کار یا ان کی املاک پر حملے کی صورت میں ملوث افراد کا احتساب ہوگا اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG