رسائی کے لنکس

فو ٹو گرافس کا کسی امریکی اخبار میں شائع ہونا فوٹوگرافی میں پولٹزر پرائز کے لئے اہلیت کی بنیادی شرط ہے ۔یعنی اس ایوارڈ کے لئے مقابلے میں صرف اخبار کا پبلشر یا خبر رساں ایجنسی ہی حصہ لے سکتی ہے ۔

پولٹزر پرائز امریکہ کے معروف پبلشر جوزف پو لٹزر کے نام پر 1917ءمیں شروع ہوا تھا۔ صحافتی دنیا کے اس اہم ایوارڈ کے تحت فو ٹوگرافی کے میدان میں پولٹزر پرائز دینے کا سلسلہ 1942ءمیں شروع ہوا ۔1968ءکے بعد سے بریکنگ نیوز اور فیچر سٹوری پر الگ الگ فو ٹو گرافی ایوارڈ دیئے جاتے ہیں ۔بہترین تصویر کا پولٹزر بیک وقت کئی تصاویر اور کبھی انفرادی تصویروں کو بھی دیا جاتا ہے ۔

امریکہ میں صحافت سے متعلق قائم میوزیم ’’نیوزیم‘‘ کے سینیئر ایڈیٹر کین کرافورڈ کہتے ہیں کہ پولٹزر پرائز صحافتی ایوارڈ بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ فو ٹو ایوارڈ ہے ۔اس وجہ سے بعض اوقات سٹوری بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنا کہ فو ٹو گراف ۔ یہ ایک ایسا فو ٹو گراف ہوتا ہے جس کے ساتھ اس سال کی کوئی اہم سٹوری جڑی ہوئی ہوتی ہے ۔

1942ءسے اب تک گیارہ سو کے قریب تصاویر پولٹزر پرائز فو ٹو ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں جو تمام کی تمام نیوزئم کی پولٹزر پرائز گیلری میں موجود ہیں ،جس کی تیاری ،ترتیب اوردستاویزی فلموں کے پس پردہ کین کرافورڈ کا ذہن کار فرما رہا ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ اس ایوارڈ کے لئے اہلیت کی شرط فو ٹو گرافس کا کسی امریکی اخبار میں شائع ہونا ضروری ہے ۔یعنی عمومی طور پر یہ اایسا ایوارڈ ہے جس میں صرف اخبار کا پبلشر یا خبر رساں ایجنسی ہی حصہ لے سکتی ہے ۔

2002ءمیں نیوزئم کے براڈ کاسٹ ڈویژن نے پولٹزر پرائز گیلری کے لئے ان فو ٹو گرافرز کے انٹر ویوز جمع کرنے شروع کئے جو پو لٹزر پرائز حاصل کر چکے ہیں ۔کین کرا فورڈ کہتے ہیں کہ انٹرویوز کے ودران انہیں معلوم ہوا کہ نیوز فو ٹوگرافرز کتنے اچھے داستان گوبھی ہوتے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ شایدتمام فو ٹو گرافرز سے مل کر آپ کو ایسا نہ لگتا ہو ، مگر تمام فو ٹو گرافرز خبر کی اہمیت اور تصویر کےتاثر سے اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں اور چونکہ ان میں سے زیادہ تر نے تصویریں بہت مشکل حالات میں کھینچی گئی ہیں ، مثلاً جنگوں ،قحط،مٹی کے تودے ،اور زلزلے میں ، اس لئے ان کے پاس ایسی بہت کہانیاں ہیں کہ کب اور کیسے حالات میں انہوں نے یہ تصویریں لیں جو وہ دوسروں کو سنا سکتے ہیں۔

کین کرافورڈ کہتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ پولٹزر پرائز جیتنےوالی تمام تصویروں کی تاریخی اہمیت زیادہ ہو ۔بعض تصاویر صرف دل کو چھونےو الی بریکنگ نیوز سٹوریز کی ہوتی ہیں ۔مگردوسری جنگ عظیم ،ویت نام جنگ اور حالیہ تاریخ میں گیارہ ستمبر کی تصویروں کی تاریخی اہمیت کبھی کم نہیں ہوگی ۔

نیوزیم میں موجود ایک ہزار منتخب تصاویر تاریخ کے مختلف لمحات ہیں جو اپنے اپنے وقت کے واقعات کا رخ تو تبدیل نہیں کر سکے مگر آنے والے کئی برسوں تک انسانوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہیں گے ۔

XS
SM
MD
LG