رسائی کے لنکس

سال 2023: اب تک ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد 94 ہو گئی، غزہ لڑائی سب سے مہلک


رائیٹرز کے ویڈیو گرافرعصام عبداللہ کی تصویر کے قریب ایک بچہ رو رہا ہے۔ عصام 13 اکتوبر کو اس وقت ہلاک ہو گئے جب ایک اسرائیلی میزائل بیروت میں اس وقت آن گرا تھا جب مظاہرے کی کوریج کے دوران بین الاقوامی
صحافی جمع تھے (فائل فوٹو: اے پی)
رائیٹرز کے ویڈیو گرافرعصام عبداللہ کی تصویر کے قریب ایک بچہ رو رہا ہے۔ عصام 13 اکتوبر کو اس وقت ہلاک ہو گئے جب ایک اسرائیلی میزائل بیروت میں اس وقت آن گرا تھا جب مظاہرے کی کوریج کے دوران بین الاقوامی صحافی جمع تھے (فائل فوٹو: اے پی)

دنیا بھر میں صحافیوں کی نمائندگی کرنے والی ایک سرکردہ تنظیم نے جمعہ کو 2023 میں دنیا بھر میں میڈیا کے پیشہ ور افراد کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جب کہ حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ میں 30 سالوں میں کسی بھی تنازعہ سے زیادہ صحافی ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے میڈیا ورکرز سے متعلق جاری کردہ اپنے سالانہ اعداد و شمار میں، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس یا آئی ایف جے نے کہا کہ اس سال اب تک 94 صحافی مارے جا چکے ہیں اور تقریباً چار سو صحافیوں کو قید کیا گیا ہے۔

اس گروپ نے میڈیا ورکرز کے لیے بہتر تحفظ اور ان پر حملہ آوروں کی جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔

آئی ایف جے کے صدر ڈومینیک پراڈالے نے کہا، صحافیوں کے تحفظ کے نظام اور اس کے موثر بین الاقوامی نفاذ کے لیے ایک نئے عالمی معیار کی اس سے زیادہ ضرورت پہلے کبھی نہیں تھی۔

گروپ نے کہا کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی جنگ کی کوریج کرتے ہوئے اب تک 68 صحافی مارے جا چکے ہیں۔ یعنی روزانہ ایک سے زیادہ صحافی کی ہلاکت۔ یہ دنیا بھر میں میڈیا کارکنوں کی تمام اموات کا 72 فیصد ہے۔ گروپ کا کہنا ہےکہ ان میں سے بھاری اکثریت غزہ کی پٹی میں فلسطینی صحافیوں کی ہے، جہاں اسرائیلی فورسز اپنا حملہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گروپ نے کہا کہ جب سے آئی ایف جے نے 1994 میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے جانے والے صحافیوں کے اعداد و شمار کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا ہے، غزہ کی جاری جنگ صحافیوں کے لیے کسی بھی تنازعے سے زیادہ مہلک رہی ہے۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ صحافیوں کی اموات کی اس شرح اور رفتار کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

تنظیم نے کہا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے تقریباً دو سال بعد یوکرین اب بھی صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک بنا ہوا ہے۔ اور تنظیم کا کہنا ہے کہ وہاں اس سال اب تک اس جنگ میں تین صحافی اور میڈیا کارکن مارے جا چکے ہیں۔

افغانستان، فلپائن، بھارت، چین اور بنگلہ دیش کا ذکر

تنظیم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان ممالک میں میڈیا کارکنوں کے خلاف جو جرائم ہوتے ہیں ان پر کسی کو کوئی سزا نہیں ملتی اور اس نے حکومتوں پر زور دیا کہ قتل کی ان وارداتوں پر مکمل روشنی ڈالیں، تفصیلات سامنے لائیں اور صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

گروپ نے توجہ دلائی کہ شمالی اور جنوبی امریکہ میں مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال ان ممالک میں مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد 29 تھی جو رواں برس 2023 میں کم ہو کر اب تک 7 رہ گئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میکسیکو میں تین، پیرا گوئے میں ایک، گواٹے مالا میں ایک اور کولمبیا میں ایک صحافی اس برس ہلاک ہوا۔ جب کہ ایک امریکی صحافی کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ مسلح گروپوں اور پبلک فنڈ کے غبن کے واقعات کی تحقیقات کر رہے تھے۔

گروپ کے مطابق افریقہ بدستور ایسا خطہ ہے جہاں صحافیوں کی سب سے کم ہلاکتیں ہوئی ہیں، لیکن تنظیم نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اس کے بقول کیمرون اور لیسوتھو میں تین خاص طور پر چونکا دینے والے قتل ہوئے جن کی ابھی تک مکمل تحقیقات ہونا باقی ہیں۔

گروپ نے کہا کہ مجموعی طور پر، اس سال اب تک 393 میڈیا کارکنان جیلوں میں بند ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد چین اور ہانگ کانگ میں ہے جہاں 80 صحافی مقید ہیں۔ اس کے بعد سب سے بڑی تعداد میانمار میں ہے جہاں 54 صحافی قید ہیں، پھر ترکی میں 41، روس اور یوکرین کے مقبوضہ کریمیا میں 40، بیلاروس میں 35 اور مصر میں 23 صحافی مقید ہیں۔

اس رپورٹ کے لئے مواد اے پی لیا گیا ہے۔

فورم

XS
SM
MD
LG