رسائی کے لنکس

افغانستان: امریکن یونیورسٹی دوبارہ کھل گئی


(فائل فوٹو)

اگست 2016 میں اس یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

افغان دارالحکومت کابل میں امریکن یونیورسٹی آف افغانستان سات ماہ بعد دوبارہ کھل گئی ہے۔

اگست 2016 میں اس یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں سات طالب علم، ایک پروفیسر، تین پولیس اہلکار اور دو سکیورٹی گارڈ شامل تھے۔

’دی امریکن یونیورسٹی آف افغانستان‘ میں پڑھانے والوں میں افغان اور غیر ملکی اساتذہ شامل ہیں۔ یونیورسٹی کو ہفتہ کو باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا لیکن اس میں پڑھائی کا آغاز 28 مارچ سے ہو گا۔

یونیورسٹی کے قائم مقام صدر ڈیوڈ سیڈنی نے وائس آف امریکہ کی افغان سروس کو بتایا کہ افغانستان کے مستقبل کے لیے ہم اپنے وعدے کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یونیورسٹی اب پہلے سے زیادہ محفوظ ہے، کیوں کہ گزشتہ سال ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد اضافی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

یونیورسٹی اس سے قبل بھی دہشت گردوں کے نشانے پر رہی ہے اور یہاں پڑھانے والے ایک امریکی اور آسٹریلیوی پروفیسر کو گزشتہ سال اُس وقت اغوا کیا گیا جب وہ کیمپس جا رہے تھے۔

رواں سال جنوری میں دونوں پروفیسروں کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں اُنھوں نے امریکی حکومت سے کہا کہ وہ اُن کی محفوظ بازیابی کے لیے بات چیت کرے۔ تاحال دونوں پروفیسر بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔

یہ یونیورسٹی افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد کی مدد سے 2006 میں تعمیر کی گئی تھی۔

اس یونیورسٹی میں 1,700 طالب علم زیر تعلیم ہیں اور اس درس گاہ کا شمار ملک کے سب سے بہترین تعلیمی ادارے کے طور پر کیا جاتا ہے، یہاں سے تعلیم مکمل کرنے والے بعض افراد اس وقت افغانستان کی حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG