رسائی کے لنکس

logo-print

کابل دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی


طالبان ترجمان نے اسلام آباد میں ’وائس آف امریکہ‘ کو بھیجے گئے ایک مختصر بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ غیر ملکی ریستوراں پر حملہ خودکش نوعیت کا تھا۔ بیان کے مطابق، طالبان بم حملہ آور نے بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ لیکن، اس بیان میں حملہ آوروں کی تعداد نہیں بتائی گئی

کابل میں جمعے کو ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے۔

یہ دھماکہ کابل شہر کے مرکزی رہائشی علاقے میں ہوا، جہاں بہت سے گیسٹ ہاؤس ہیں اور اس علاقے میں بہت سے اعلیٰ افغان حکام بھی رہائش پزیر ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان، صدیق صدیقی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہل کار دھماکے کی جگہ پر موجود ہیں اور پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

طالبان ترجمان، حزب اللہ مجاہد نے اسلام آباد میں ’وائس آف امریکہ‘ کو بھیجے گئے ایک مختصر بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ غیر ملکی ریستوراں پر حملہ خودکش نوعیت کا تھا۔

بیان کے مطابق، طالبان بم حملہ آور نے بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ لیکن، اس بیان میں حملہ آوروں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ دھماکے میں لی جارڈین ریسٹورنٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں عموماً غیر ملکی موجود ہوتے ہیں۔ فوری طور پر جانی و مالی نقصان کے بارے میں اطلاع نہیں ملی۔

جمعے کو یہ دھماکہ کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے اس خود کش دھماکے کے دوسرے دن ہوا، جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی اور جس میں ایک شخص ہلاک اور 33 زخمی ہوئے تھے۔

شہر میں خودکش دھماکوں کے تسلسل کا یہ تازہ ترین دھماکہ تھا۔

XS
SM
MD
LG