رسائی کے لنکس

logo-print

کابل میں بین الاقوامی افواج کے قافلے پر خودکش کار بم حملہ


طالبان نے اس حملے کو بین الاقوامی افواج کی قندوز اور دیگر علاقوں میں فضائی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا ہے جس میں ان کے بقول افغان شہری مارے گئے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک خود کش کار بم حملے میں غیر ملکی فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

افغان پولیس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والے اس حملے میں تین عام شہری زخمی ہوئے ہیں تاہم انہوں نے اس میں کسی غیر ملکی کے زخمی ہونے کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں اور یہاں سے ایمبولنس گاڑیوں کو بھی جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

ایک مقامی ٹی وی چینل نے اپنی براہ راست نشریات میں ایک تباہ حال فوجی گاڑی کو دکھایا۔

نیٹو کی زیر قیادت "ریزولیوٹ اسپورٹ مشن" کے ترجمان نے اپنے فوجی قافلے پر حملے کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس بم حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس میں کم از کم 12 افراد کی ہلاکت کا بتایا ہے۔ عسکریت پسند عموماً اپنے حملوں میں جانی نقصان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

تاہم نہ تو افغان حکام اور نہ ہی نیٹو فوجی عہدیداروں نے اس قدر جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔

طالبان نے اس حملے کو بین الاقوامی افواج کی قندوز اور دیگر علاقوں میں فضائی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا ہے جس میں ان کے بقول افغان شہری مارے گئے۔

ایک روز قبل ہی کابل میں امریکی سفارت خانے ایک بیان میں اپنے شہریوں کو متنبہ کیا تھا کہ عسکریت پسندوں نے کار میں نصب دھماکا خیز مواد کے ذریعے 12 اکتوبر یا" اس کے آگے پیچھے شہر میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر یا دوسری تنصیبات پر ایک پیچیدہ" حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں سلامتی کی صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہے اور یہاں امریکی شہریوں کے لیے خطرہ بدستور موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG