رسائی کے لنکس

logo-print

کانگو وائرس مزید سنگین، اسپتالوں میں خصوصی وارڈ قائم


ادھر کراچی کے تین بڑے اسپتالوں جناح ، سول اور عباسی شہید میں خصوصی یا آئیسولیشن وارڈ قائم کردیئے گئے ہیں ۔ ان وارڈ میں عام لوگوں حتیٰ کہ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کو بھی خصوصی انتظامات و احتیاطی تدابیر اختیار کئے بغیر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

پاکستان کے تین صوبوں میں کانگووائرس کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے جبکہ تقریباً تین ہفتوں بعد آنے والی عیدالاضحی نے کراچی میں بھی اس مرض کے خوف نے سنسنی پھیلادی ہے ۔

اتوار کو بھی ایک مریض کانگو وائرس کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن گیا جبکہ جمعہ کو بھی اللہ دتہ نامی ایک شخص جو قربانی کے جانور فروخت کرنے بہاولپور سے کراچی آیا ہوا تھا وہ بھی اسی مرض کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھا۔

انسداد کانگو وائرس کمپنی کے فوکل پرسن ڈاکٹر ظفر مہدی نے تصدیق کی کہ اللہ دتہ کی موت کانگو وائرس کی وجہ سے ہوئی جبکہ سیکریٹری صحت احمد بخش ناریجو نےاللہ دتہ کے جانوروں کو کراچی کی مویشی منڈی سے علیحدہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

اس معاملے پر کمشنر کراچی کی جانب سے بھی توجہ دی جارہی ہے ۔ جبکہ ایڈمنسٹریٹر کراچی نے ڈی سی ملیر کو مویشی منڈی میں موجود جانوروں کا معائنہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں ۔ ادھر محکمہ صحت نے بھی شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے ۔

ڈاکٹر ظفر مہدی کے مطابق کراچی میں اس سے قبل بہاولپور سے آنے والا ڈاکٹر بھی کانگو وائرس میں مبتلا ہوکر موت کا شکار ہوا تھا ۔ انہوں نے شہر قائدمیں اب تک چھ افراد کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ۔

اس کے باوجود بیشتر لوگوں اور خاص کر بچوں کی تعداد قربانی کے لئے لائے جانے والے جانوروں کے قریب جانے اور ان سے رابطے میں بالکل احتیاط نہیں برت رہے۔

ادھر کراچی کے تین بڑے اسپتالوں جناح ، سول اور عباسی شہید میں خصوصی یا آئیسولیشن وارڈ قائم کردیئے گئے ہیں ۔ ان وارڈ میں عام لوگوں حتیٰ کہ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کو بھی خصوصی انتظامات و احتیاطی تدابیر اختیار کئے بغیر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

سرکاری اعدادوشمارکے مطابق کانگو وائرس سےاتوار کی شام تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 21افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ رواں سال کے یہ اعداد و شمار انتہائی لرزہ خیز ہیں۔ سب سے زیادہ اموات بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ہوئیں جہاں 12افراد ہلاک ہوئے۔ علاوہ ازیںکراچی میں 6 اور پنجاب میں3افراد ہلاک ہوئے۔

کانگو وائرس کراچی کی مویشی منڈی تک آپہنچا

اللہ دتہ کی موت سے واضح ہوگیا ہے کہ کانگو وائرس کراچی کی مویشی منڈی تک آپہنچا ہے جو ایک الرٹ ہے ۔ دوکروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں 30 لاکھ سے زائد جانور عبدالاضحی کے تین دنوں کے دوران ذبح کئے جاتے ہیں اور سارا شہر یہیں سے جانور خرید کر اپنے اپنے علاقوں اور گھر تک لے جاتا ہے ۔ ایسی صورت میں حفاظتی اقدامات نہ کئے گئے تو لاکھوں افراد کی زندگیاں داؤ پر لگ جائیں گی۔

مویشی منڈی میں موجود ویٹرینری ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ جانوروں پر اسپرےکیاجارہا ہے تاکہ جانوروں کی جلد میں موجود کانگو وائرس کا سبب بننے والی چیچڑیاں مر جائیں ۔ یہی نہیں بلکہ مویشیوں کو ٹیکے بھی لگائے جارہے ہیں ۔

بلوچستان میں کانگو سے زیادہ اموات کی وجہ افغانستان سے آنے والے جانور ہیں ، اس بات کی تصدیق وزارت صحت کے حکام پہلے ہی کرچکے ہیں ۔ فاطمہ جناح چیسٹ ہوسپیٹل اینڈ ٹی بھی سینی ٹوریم کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مختار کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک ان کے اسپتال میں کانگوکے 85 متاثرہ مشتبہ مریض لائے جاچکے ہیں ان میں سے 62 مریضوں کا تعلق افغانستان سے ہے ۔ ان افراد میں سے 22 مریض کانگو وائرس سے متاثرہ ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG