رسائی کے لنکس

logo-print

ہم کھلونے نہیں ہیں: نوجوانوں کا منفرد احتجاج


پاکستان کے شہر کراچی میں نوجوانوں کے عالمی دن کے حوالے سے شہر کراچی کے نوجوانوں کا یہ اجتجاجی مظاہرہ منفرد اور انوکھا تھا۔

ہاتھوں میں بڑے بڑے ٹیڈی بیئرز اٹھائے، اپنے مطالبات کی تحریروں پر مبنی ٹی شرٹیں زیب تن کیے کراچی کے نوجوان دوپہر 12 بجے کی تپتی دھوپ میں سندھ اسمبلی کے مرکزی دروازے پر سراپا احتجاج تھے۔ مطالبات تھے بنیادی مسائل، صحت کے حوالے سے آگاہی اور مکمل معلومات کی فراہمی اور ان مسائل پر والدین اور حکامِ بالا کی توجہ۔

نوجوانوں کی ٹی شرٹس پر تحریر تھا، "ہمیں کھلونوں کی طرح ٹریٹ کرنے کے بجائے ہم پر توجہ دیں"، "اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے، پیارے والدین! ہماری سنیں اور سمجھیں"، "والدین آپکے پاس ہمیں سننے کیلئے وقت کیوں نہیں ہے؟"، "نوجوان بولنا چاہتے ہیں"، "ہم اپنے جذبات اور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔"

پاکستان کے شہر کراچی میں نوجوانوں کے عالمی دن کے حوالے سے شہر کراچی کے نوجوانوں کا یہ اجتجاجی مظاہرہ منفرد اور انوکھا تھا۔

نوجوانوں نے اس انوکھے احتجاج کے ذریعے بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ پیش آنےوالے مسائل اور پیچیدگیوں کے متعلق آگاہی کے فروغ اور انھیں نوجوانوں میں عام کرنے کے مطالبات پیش کئے۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک نوجوانوں کا کہنا تھا کہ حکام اور والدین نوجوانوں اور بچوں کو کھلونا سمجھنے کے بجائے انکے بنیادی مسائل کے حل کے بارے میں معاشی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں مناسب رہنمائی فراہم کریں اور آگاہی دیں تاکہ مستقبل میں انھیں کسی ذہنی و جسمانی مسئلے اور بیماریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس مظاہرے میں شریک ایک غیر سرکاری تنظیم کی خاتون کارکن نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں بتایا کہ احتجاج کا مقصد یہ بتانا ہے کہ بچوں کے بھی حقوق ہیں اور انہیں بھی اعتماد میں لے کر ان کی ذات کے حوالے سے درپیش مسائل کا حل نکالا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بچے کہنا چاہ رہے ہیں کہ ہم کھلونوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ پیار محبت کے ساتھ ساتھ ہمیں سمجھا بھی جانا چاہیے کہ ہم آخر چاہتے کیا ہیں؟ ان کےبقول یہ پیغام ان نوجوانوں کے لیے بھی ہے جو اپنی بات، خیالات اور آراء کا اظہار نہیں کر پاتے۔

مظاہرے میں شریک عروج نامی نوجوان طالبہ نے 'وی او اے' سے گفتگو میں کہا کہ ہم سب نوجوان اس مظاہرے کے ذریعے بتانا چاہ رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ والدین اور ہمارے بڑے ہماری سوچ اور مسائل کو سنیں اور جیسے وہ اپنے معاملات آپس میں بات چیت کے ذریعے حل کرتے ہیں ایسے ہی بچوں کے ساتھ رویہ رکھا جائے۔

عروج کا کہنا تھا کہ بچوں کو بچہ سمجھ کر اہمیت نہیں دی جاتی اور انہیں بچہ قرار دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

مظاہرے میں شریک ایک اور طالبِ علم نے بتایا کہ نوجوانوں کا مستقبل والدین اور سرپرستوں کی خواہشات پر پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کے لیے صحیح فیصلہ کریں اور فیصلہ سازی میں بچوں کا ساتھ دیں تو اس کے اچھے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

مظاہرے میں شریک ایک نوجوان فیضان نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی عمر کے مسائل اور جنسی استحصال جیسے معاملات پر مناسب معلومات کا حصول ان کا بنیادی حق ہے۔

یہ احتجاجی مظاہرہ نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نے منعقد کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG