رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاج تیسرے روز بھی جاری


سری نگر میں شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف مظاہرہ، یکم اپریل 2018

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اتوار کے روز ہونے والی جھڑپوں میں 13 عسکریت پسندوں کی ہلاکت اور ان جھڑپوں کے دوران یا فوراً بعد مظاہرین پر حفاظتی دستوں کی فائرنگ میں 4 شہریوں کے مارے جانے اور سو سے زیادہ کے زخمی ہونے کے خلاف ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ منگل کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔

اس دوران مظاہرین پر پولیس فائرنگ میں زخمی ہونے والا ایک اور نوجوان 22 سالہ گوہر احمد راتھر سری نگر کے ایک اسپتال میں چل بسا۔ اس کی خبر پھیلتے ہی شورش زدہ ریاست کے گرمائی صدر مقام سری نگر اور ہلاک ہونے والے نوجوان کے آبائی علاقے کنگن میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس استعمال کی۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین میں شامل نوجوانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور یہ سلسلہ بڑی دیر تک جاری رہا۔ ان جھڑپوں میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ کنگن میں شدید زخمی ہونے والے دو افراد کو سری نگر کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

عہدیداروں نے کنگن کے نوجوان کی ہلاکت کی تحقیقات ایک مجسٹریٹ کے ذریعے کرانے کا اعلان کیا ہے

اتوار کو ہلاک ہونے والے 13 عسکریت پسندوں اور 4 شہریوں کے سوگ اور احتجاج میں کی جارہی ہڑتال کی وجہ سے مسلم اکثریتی وادئ کشمیر میں کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ شہری ہلاکتوں کے خلاف منگل کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جموں خطے کی چناب وادی میں بھی ہڑتال کی گئی۔ واضح رہے چناب وادی بھی ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔

ہڑتال کے لیے اپیل استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے ایک اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے کی تھی۔

صورت حال پر غور کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے نئی دہلی سے جہاں وہ گزشتہ چند روز سے مقیم تھیں سرینگر پہنچ کر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں اور حفاظتی دستوں کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔

ان ہلاکتوں کے خلاف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی مظاہرے کیے گیے ہیں۔ پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی اور حفاظتی دستوں کی طرف سے اس کے بقول انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف ممالک میں خصوصی نمائندے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارت اس طرح کے الزامات کی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہے۔

شہری ہلاکتوں پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتو نیو گئیترس نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے انسانی ہمدردی سے متعلق بین الاقوامی قانون کے تحت یہ ممبر ممالک کا اولین فرض ہے کہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کریں چاہے وہ کشمیر میں رہتے ہوں، فلسطین میں یا یمن میں - ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کا ایک بنیادی اصول ہے۔

سیکرٹری جنرل کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سرکردہ کشمیری سیاسی اور مذہبی راہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا۔’ ہمیں اس بات پر کسی حد تک اطمینان تو ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کشمیر اور فلسطین کی صورت احوال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ سویلین ہلاکتیں بند ہونی چاہییں اور خون ناحق نہیں ہونا چاہیے، لیکن ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ جو صورت حال اس وقت (بھارت کے زیر انتظام) جموں و کشمیر میں ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے خالی بیانات سے کام نہیں چلے گا ۔ اقوام متحدہ کی یہ ذمہ داری ہے اور وہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے اپنے وعدوں کے مطابق عملی طور پر کچھ کرکے دکھائے۔ ہمیں یہ توقع ہے کہ اقوام متحدہ اور سیکرٹری جنرل کشمیر کے مستقل حل کے لیے فعال کردار ادا کریں گے۔ یا تو وہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کرائیں یا پھر بھارت اور پاکستان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کریں‘-

اس دوران مشتبہ عسکریت پسندوں نے شمالی ضلع بانڈی پور کے حاجن علاقے میں ایک شہری منتظر احمد پّرے کو اغوا کرنے کے بعد ہلاک کردیا۔

ادھر سرمائی دارالحکومت جموں میں بھارتی فوج کے ایک ترجمان کے کہا کہ کشمیر کی حد بندی لائن پر پاکستانی فوج کی طرف سے کی جانے والی گولہ باری میں ایک بھارتی فوجی ہلاک اور اس کے چار ساتھی جن میں ایک افسر بھی شامل ہے زخمی ہو گئے۔، ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ منگل کو ضلع پونچھ کے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں پیش آیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستانی شیلنگ کا بھرپور جواب دے دیا گیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی طرف سے تا حال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG