رسائی کے لنکس

logo-print

خاتون کے ساتھ زیادتی کے خلاف بھارتی کشمیر میں ہڑتال


خاتون کے ساتھ زیادتی کے خلاف بھارتی کشمیر میں ہڑتال

دو بھارتی فوجیوں کی جانب سے مبینہ طور پر ایک مقامی خاتون کو اغواء کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں ہونے والی عام ہڑتال سے متنازع خطے میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں۔

ہفتہ کو ہونے والی ہڑتال کے سلسلے میں وادی کے مرکزی شہر سری نگر اور دیگر شہروں اور قصبات میں دکانیں، بینک، تعلیمی ادارے ، دفاتر اور دیگر کاروباری مراکز بند رہے۔

واقعہ کے خلاف گزشتہ روز بھی وادی میں منعقد ہونے والے مظاہروں میں سینکڑوں افراد نے شرکت کرکے بھارت کے خلاف اور مبینہ ملزم بھارتی فوجی اہلکاروں کی گرفتاری کے حق میں نعرے بازی کی تھی۔

بھارتی فوجی حکام نے کہا ہے کہ مذکورہ واقعہ میں فوجی اہلکاروں کا ملوث ہونا یقینی نہیں کیونکہ ان کے بقول بعض اوقات مزاحمت کار بھی فوجی وردیوں میں ملبوس ہوکر ایسی کارروائیاں کرتے ہیں۔

ادھر بھارتی پولیس نے بھی موقف اختیار کیا ہے کہ واقعے کے دوران خاتون کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کرنے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کی جانب سے ماضی میں بھارتی سکیورٹی فورسز پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

مسلم اکثریتی خطہ کشمیر انتظامی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم ہے تاہم دونوں ممالک اس پر کلی ملکیت کے دعویدار ہیں۔ کشمیری علیحدگی پسند 90ء کی دہائی سے وادی کی بھارت سے آزادی یا پاکستان کےساتھ الحاق کی تحریک چلارہے ہیں جس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG